نثری ادب و انجمن ترقی اردو ہند نے اردو اکیڈمی کے صاحبان اعزاز کا استقبال کیا
ایک طویل عرصے سے اردو زبان و ادب کی ترقی ترویج و اشاعت اور خدمت کا اعزاز ادارہ نثری ادب کو حاصل ہے۔ لاک ڈاؤن کے تعطل کے بعد انتہائی کامیاب ادبی نشست کا انعقاد نوجوان مبصر، افسانہ نگار و معلم افضال انصاری کی صدارت میں مورخہ 26 جون کی شب اے ٹی ٹی کیمپس کے مرکزی ہال ہوا۔ جسمیں عبدالمجید ماسٹر و ڈاکٹر اقبال برکی نے کہانی اور ہارون اختر نے افسانہ پیش کیا۔ جس پر حاضرین نے خاطر خواہ خواہ تبصرے کیے۔ بعد ازاں مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی ۲۰۱۹ء کے صاحبان اعزاز محترم ظہیر قدسی(تبسم زندگی ہے) محترم سراج دلار(چوپال) محترم حمید شیخ(طرفہ تماشا) محترم ڈاکٹر عبدالماجد (مغربی نظریہ سود) محترم ڈاکٹر ساجد صدیقی(بکری پالن) محترم ڈاکٹر آصف فیضی(چلتے ہو تو حرم کو چلئے/فن اخبار نویسی) محترم ڈاکٹر اقبال برکی(بادشاہ کا انتخاب) محترم یوسف رانا(خوشبوۓ زنبیل) و محترم عتیق افضل(تحفہ گل) اور حال ہی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری سے سرفراز ڈاکٹر مبین نذیر کی خدمت میں ادارہ کی جانب سے شال، قلم، گل اور کتابیں پیش کر کے استقبال کیا گیا- بعد ازاں شہر کی ایک اور موقر انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں کے صدر و اراکین کی جانب سے بھی تمام ہی صاحبان اعزاز کی شال پوشی کی گئی ساتھ ہی معروف صحافی احسان الرحیم، ڈاکٹر محمد مشاہد حسین رضوی اور ڈاکٹر آصف فیضی صاحبان نے بھی ڈاکٹر مبین نذیر کی خدمت میں تحائف و شال پیش کرکے مبارکباد پیش کی انجمن کی جانب سے صدر پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ جبکہ رکن انصاری انعام الرحمن سر نے شکریہ ادا کیا- صاحبان اعزاز کی نمائندگی حمید شیخ، ڈاکٹر آصف فیضی و ڈاکٹر مبین نذیر نے کی- خطبہ صدارت میں، پیش کی گئی تمام تخلیقات پر صدر نشست نے اپنے تبصروں سے نوازا۔ ساتھ ہی تمام اعزاز یافتگان کو مبارکباد پیش کی- صاحبان اعزاز کا تعارف بالترتیب عتیق شعبان سر، عمران جمیل و رضوان ربانی نے پیش کیا۔ نشست کا آغاز تلاوت کی کلام ربانی سے ہوا جبکہ رسم شکریہ ڈاکٹر اقبال برکی سر نے ادا کیا- نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر نے بخوبی ادا کیۓ- کثیر تعداد میں حاضرین از اول تا آخیر موجود رہے۔ حاضرین کی چاۓ سے ضیافت کی گئی- اسطرح ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوئ

0 تبصرے