عید پر ‏منتخب اشعار ‏

*عید پر منتخب اشعار*

( انتخاب ۔ شکیل حنیف )

تیرے بغیر ہم نے گزاری ہے ایسے عید
جیسے سفر میں شامِ غریباں گزر گئی

دن بھر خفا تھی مجھ سے مگر چاند رات کو
مہندی سے میرا نام لکھا اس نے ہاتھ پر

دیکھا ہلال عید تو محسوس یہ ہوا
لو ایک سال اور جدائی میں کٹ گیا

عید آئی تم نہ آئے کیا مزہ پھر عید کا
عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا

عید کے بعد وہ ملنے کےلیے آئے ہیں
عید کا چاند نظر آنے لگا عید کے بعد
ادھر سے چاند تم دیکھو أدھر سے چاند ھم دیکھیں
نگاہوں کے تصادم سے ہماری عید ہوجائے

وہ بھی ملتا جو گلے تو خوشی عید کی تھی
کوئی رہ رہ کے نصیر آج بہت یاد آیا

عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

ماہ نو دیکھنے تم چھت پہ نہ جانا ہرگز
شہر میں عید کی تاریخ بدل جائے گی

تمہارے چاند سے رخسار کی گر دید ہو جائے
قسم ہے اپنی انکھوں کی ہماری عید ہو جائے
بچھڑے ہوئے کی یاد میں آنکھیں اداس ہیں
اے صبح عید گھر کو سجاؤں میں کس طرح

دستور ہے دنیا کا مگر یہ تو بتاؤ
ہم کس سے ملیں، کس سے کہیں عید مبارک

اپنی تو کسی طور گزر جائے گی یہ عید
تم جس سے ملو آج اسے عید مبارک 

‏کچھ مسکراہٹیں ادھار دے دے اے زندگی 
عید  آ رہی ہے  مجھے  رسمیں  نبھانی ہیں

ہلال عید کو دیکھو تو روک لو آنسو
جو ہو سکے تو محبت کا احترام کرو
میری آرزوؤں کی تمہید تم ہو
میرا چاند تم ہو میری عید تم ہو

غم کے ماروں کے لیئے درد کا سامان بنا
شام کی گود میں وہ شعلہ نما عید کا چاند

چاند کو دیکھا تو یاد آگئی صورت تری
ہاتھ اٹھے ہیں مگر حرف دعا یاد نہیں

اللہ کرے کہ تم کو مبارک ہو روز عید
ہر راحت و نشاط کا ساماں لیئے ہوئے

نظر جو چاند پہ کی دل میں مسکرائے تم
دعا کو ہاتھ اٹھائے تو یاد آئے تم
کتنے ترسے ہوئے ہیں عیدوں کو
وہ جو عیدوں کی بات کرتے ہیں

جن کے ملنے کا آسرا ہی نہیں
عید ان کا خیال لاتی ہے

ایک لمحے کو کبھی میں تجھے دیکھا تھا
عمر بھر میری نظر میں نہ جچا عید کا چاند

خود تو آتے نہیں یاد چلی آتی ہے
عید کے روز مجھے یوں نہ ستائے کوئی

ہلال عید بھی نکلا تھا وہ بھی آئے تھے
مگر انہی کی طرف تھی نظر زمانے کی
جب تو نہیں تو عید میں رنگ وفا نہیں
سب قسمتوں کے کھیل ہیں تجھ سے گلہ نہیں

چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے​

آنکھ نم کرگیا بچھڑے ہوئے لوگوں کا خیال
درد ِدل دے کے ہمیں ڈوب گیا عید کا چاند 

لبوں پہ رنگ تبسم، نہ دل میں موج ِ سرور
میرے وطن کے غریبوں کی عید کیا ہوگی

اس سے ملنا تو اسے عید مبارک کہنا
یہ بھی کہنا کہ مری عید مبارک کر دے

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ 
اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

غریب ماں اپنے بچوں کو پیار سے یوں مناتی ہے
پھر بنا لیں گے نئے کپڑے یہ عید تو ہر سال آتی ہے

شاید تم آ ؤ میں نے اِسی انتظار میں
اب کے برس کی عید بھی تنہا گزار دی

مفلس کے دل سے نعرۂ یاہو نکل گیا
عید آئی اور آنکھ سے آنسو نکل گیا

جو لوگ گزرتے ہیں مسلسل رہ دل سے 
دن عید کا ان کو ہو مبارک تہ دل سے 
دے انہیں جنبش کبھی عہد وفا کے واسطے
تیرے ہونٹوں میں‌ نہاں میرا ہلالِ عید ہے

گل نہ ہوگا تو جشن خوشبو کیا
 تم نہ ہوگے تو عید کیا ہوگی

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال 
وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے 

گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا
چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا

سب لوگ دیکھتے ہیں کھڑے چاند عید کا
 مشتاق ہوں میں‌رشک قمر تیری دید کا
آج کے دن صاف ہوجاتا ہے دل اغیار کا
 آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا

نصیب جن کو تیرے رخ کی دید ہوتی ہے
 وہ خوش نصیب ہیں خوب انکی عید ہوتی ہے

مہہ نو آج صبح عید کی لے کر نوید آیا
صلے میں تیس روزوں کے مبارک روز عید آیا

عید وہ مل رہے ہیں غیروں سے
ہم سے کہتے ہیں مدعا کیا ہے

عید کے چاند غریبوں کو پریشان نہ کر
تجھ کو معلوم نہیں زیست گراں ہے کتنی

شکیل حنیف سر کے شکریہ کے ساتھ

*اپنی دکان، فرم، کاروبار اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے اور اسے عوام الناس تک احسن طریقے سے پہنچانے کے لئے ایک مرتبہ ضرور آزمائیں-*

*ویڈیو ایڈ صرف 1000/- Only*

👈🏻واٹس ایپ
👈🏻فیس بک
👈🏻انسٹا گرام
👈🏻فیس بک پیج
👈🏻یوٹیوب چینل
👈🏻بلاگ

*تقریباً -/25000 (پچیس ہزار) لوگوں تک اپنی بات، اپنی خصوصیات، احسن طریقے سے پہنچائیں- صرف ایک ہزار (1000) روپے میں آج ہی رابطہ کریں*-

*عنایہ ایڈورٹائزرس*
*8983174977*   *8956599552*


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے