*اپنا تعلیمی رجحان معلوم کریں*
*مختار یوسف*
کریر کونسلر
پہلی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک پورے مہاراشٹر میں میڈیم وائز ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ گویا یہ ایک بنیادی نظام ہوتا ہے جس سے ہر ڈاکٹر، انجینیئر ، وکیل، تاجر، سرکاری ملازم، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا کسی بھی فیلڈ میں اعلی و ادنی تعلیم حاصل کرنے والے ہر طالب علم کو گزرنا پڑتا ہے۔
دسویں تک تو کوئی ٹرننگ پوائنٹ نہیں ہوتا لیکن دسویں کے بعد طالب علم ایک ایسے چوراہے پر کھڑا ہوتا ہے جہاں سے مختلف راستے مختلف منزلوں تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ ایک راستہ میڈیکل کی طرف جاتا ہے تو دوسرا ٹیکنیکل کی، طرف تیسرا کامرس کی طرف چوتھا آرٹس کی طرف اور پانچواں فائن آرٹ کی طرف جاتا ہے۔ یہاں طالب علم کو سوچنا پڑتا ہے کہ وہ کس سمت کا انتخاب کرے۔
علم نفسیات سائیکولوجی کا ایک بنیادی اصول ہے
There are individual differences
انسانوں کے درمیان انفرادی فرق ہوتا ہے. طلبہ کی بات کریں تو ایک طالب علم کی پسند اور ناپسند بہت سارے معاملات میں دوسرے طالب علم سے مختلف ہوتی ہے. مزاج اور خداداد صلاحیتیں ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں. اہلیت اور قابلیت کم زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی گلابی کلر پسند کرتا ہے تو کوئی سفید کوئی،
کوئی سنجیدہ طبیعت کا ہوتا ہے تو کوئی بذلہ سنج، کوئی خاموش طبع تو کوئی باتونی، کوئی تنہا پسند تو کوئی تنہائی بیزار، مختلف مضامین میں دیکھیں تو کسی کو میتھس پسند ہے تو کسی کو میتھس کے پیریڈ میں خوب جمائی آتی ہے۔کوئی انگریزی کا شوقین ہے تو کوئی سائنس کا فین، اسی اختلافی کیفیت کو طبعی میلان یا رجحان کہا جاتا ہے اور اسی طبعی میلان کے مدنظر کسی پیشے یا کورس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے کسی پیشے کریئر کی چمک دمک سے متاثر ہو کر اس کا انتخاب کیا ہے تو آپ غلطی کر رہے ہیں۔ اگر آپ نے کسی دوست یا سہیلی کی وجہ سے کسی کورس کا انتخاب کیا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ دونوں کا طبعی میلان ہمیشہ یکساں ہو۔ کچھ والدین اپنے بچوں سے یہ امید وابستہ رکھتے ہیں کہ انہیں ڈاکٹر بنائیں گے یا انجینیئر بنائیں گے اور ان پر بیجا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ آپ کو صرف فلاں کورس ہی کرنا ہے۔
جب کہ اپنے بچوں کی نفسیات اور تعلیمی رجحان کا تجربہ کیے بغیر والدین کو کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین نفسیات نے کریئر کے انتخاب کے لیے کچھ نفسیاتی آزمائشیں، سائیکولوجیکل ٹیسٹ، تیار کیے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طالب علم کے اندر کون سا رجحان ہے۔ اسے میڈیکل کرنا چاہیے یا کامرس، اس کے لیے آرٹس بہتر ہوگا کہ فائن آرٹ یا انجینیئرنگ۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ مالیگاؤں ایجوکیشن فورم کے صدر اور قوم کے ہمدرد جناب ڈاکٹر منظور حسن ایوبی صاحب نے اس ٹیسٹ کی اہمیت کو سمجھا اور شہر مالیگاؤں کی تمام ہائی سکولوں کے دسویں کامیاب طلبہ و طالبات کا تعلیمی رجحان معلوم کرنے کے لیے 22 مئی 2025 بروز جمعرات کو ایک کیمپ کا انعقاد کیا ہے جہاں مالیگاؤں ایجوکیشن فورم کے ذمہ داران کے توسط سے طلبہ کا اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ لیا جائے گا اور میڈیکل،ٹیکنیکل، کامرس، آرٹس اور فائن آرٹس کے کورس میں کسی طالب علم کو کون سی تعلیمی لائن لینا بہتر ہوگا اس کی رہنمائی کی جائے گی۔
خواہش مند طلبہ و طالبات اور سر پرست حضرات سے گزارش ہے کہ اس سنہری موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔کیمپ کا ٹائم 22 مئی کو صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہوگا۔ جگہ سردار کیمپس اسلام نگر۔ طلبہ ٹیسٹ کے لیے پین اور رائٹنگ پیڈ ساتھ میں لائیں رجسٹریشن ضروری ہے۔ نام لکھوانے کا کام 21 مئی 2025 شام پانچ بجے تک رہے گا۔ نام لکھوانے کے لیے درج ذیل موبائل نمبروں پر رابطہ کریں۔
8983 174 977
8788 998763
8999850 273
9226 217 551
فقط
*انصاری مختار یوسف*

0 تبصرے