مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن اردو پرائمری اسکول نمبر 90 (طالبات) رمضان پورہ مالیگاؤں کے ہیڈ ماسٹر انصاری ریاض احمد محمد ایوب سر کی 31 سالہ طویل ترین، صاف و شفاف تدریسی خدمات سے سبکدوشی پر صدرِ تقریب محترم الحاج ریاض الدین ربانی ماسٹر صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جس وقت ریاض سر نے تدریسی ذمے داریوں کو سنبھالا تو آپ صبح سویرے نازک پتے پر موجود شبنم کی مانند تھے پھر اپنی لیاقت، صلاحیت، قابلیت، احساس ذمے داری، ایمان داری و خلوص سے انہوں نے سماج و معاشرے میں اچھے طلبہ کی صورت میں موتیاں بکھیر دیں اور اج جب وہ سبکدوش ہو رہے ہیں تو ہر انکھ نم ہے، سبھی آبدیدہ ہیں اور انکھوں میں انسو ابھر آۓ ہیں ایسے لمحات بہت کم لوگوں کے حصے میں آتے ہیں-
مقرر خصوصی حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے قرآن و حدیث کے حوالے سے درس و تدریس، معلمی و اساتذہ کرام کے فرائض منصبی پر روشنی ڈالی، اس شعبہ کی اہمیت، افادیت و ضرورت پر مفصل گفتگو کی اور اعتراف خدمات و حوصلہ افزائی کو بھی ضروری قرار دیا ساتھ ہی موجودہ دور میں اس شعبہ میں در ائی لاپرواہی و خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین بھی کی- اپ نے ریاض سر کی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریاض سر نہ صرف ایک اچھے معلم ہیں بلکہ ایک اچھے مسلمان بھی ہیں اور آپ کے اندر انسانیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے- اپنے دینی فریضوں کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ ملی و سماجی فریضہ بھی انجام دیتے ہیں اور حسن اخلاق، عاجزی، انکساری و سادہ لوحی ہر کسی کسی کو یہ خوبیاں ایک ساتھ نہیں ملتیں, ریاض سر نے اپنے طویل ترین 31 سالہ تدریسی دور میں جو بھی نیکیاں کی ہیں، جن طلبہ کو انہوں نے پڑھایا، تعلیم دی انہیں تراش کر ہیرا بنایا، انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، یہی ان کا سرمایہ حیات ہے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بھی،
صاحب اعزاز انصاری ریاض صاحب نے بھی انتہائی جذباتی انداز میں اپنے احساسات کا اظہار کیا اپنے طالب علمی کے زمانے (مفلسی و کسم پرسی) کو یاد کرتے ہوئے رب ذوالجلال، اپنے و الدین، اساتذہ، بھائیوں، بہی خواہوں، خیر خواہوں، رشتہ داروں، اور اسٹاف ممبران، سبھی کا شکریہ ادا کیا بالخصوص اپنے سعادت مند صاحبزادے ڈاکٹر ذیشان کا شکریہ ادا کیا کہ اسی کی خواہش پر اتنا بڑا اور شاندار پروگرام منعقد کیا گیا
تقریب کا آغاز آپکے سابق طالب علم قاری زبیر اختر عثمانی صاحب کی قرآت سے ہوا- حمد، نعت، استقبالیہ گیت اسکول کی طالبات نے پیش کیے- ثانیہ و الفیہ(طالبات) اور ثمینہ سید، قاضی ساجدہ، شیخ عظیم الدین و شیخ صادق (اساتذہ) نے اپنے قلبی تاثرات پیش کیے- ربانی فیمیلی، منشی خانوادہ، منشی کلینک(ڈاکٹر ذیشان) و معین اسحق کیجانب سے سپاس نامے پیش کیے گئے جسکی خواندگی بالترتیب رضوان ربانی ،مفتی شارق و معین اسحق نے کی- اسکول کمیٹی صدر اسماعیل بھائ و بچپن کے ساتھی ڈاکٹر رضوان نے بھی مختصراً تاثرات پیش کیے- طالبات، خالہ، واچ مین، اسٹاف ممبران، دوست و احباب، رشتے داروں سمیت معزز مہمانان و دیگر اسکولوں سے آۓ ہوئے معلمین و معلمات نے پھول، ہار، شال و تحائف دے کر اپنی محبتوں کا اظہار کیا- اس تاریخی و یادگار تقریب کی شاندار نظامت رضوان ربانی نے کی شکریہ بھی آپ نے ہی ادا کیا بعد از تقریب فوراً پر تکلف ظہرانے سے حاضرین کی ضیافت کی گئی- (ریورٹ رضوان ربانی)

0 تبصرے