جب والد کا سایہ سر پر نہیں رہا !
از قلم:- انصاری شجاع الرحمن انعام الرحمن

میں جب ماحول میں تیری کمی محسوس کرتا ہوں
تھکی آنکھوں کے پردے میں نمی محسوس کرتا ہوں
خیالات اور الفاظ جتنے بھی حسین با معنی اور احترام سے بھرے ہوئے ہو والد محترم کی جدائی کا غم قلم کی گرفت میں نہیں آسکتا اور درد دل کی وضاحت میرے لئے نا ممکن ہوتی جاتی ہے دل میں ایک غبار اٹھتا ہے اس غبار کو کاغذ پر منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر دل کے طوفان کا امر کاغذ پر کہاں آتا ہے وہ سمندر کے بہاو کی طرح کبھی سر سے گزرتا ہے کبھی چٹانوں سے ٹکرا کر واپس آتا ہے ۔ اگر حقیقت کی نگاہ
سے دیکھا جائے زندگی چیزوں اور سہولتوں کا نام نہیں بلکہ زندگی احساسات، جذبات اور الجھنوں کا نام ہے، اگرچہ زندگی بہت کچھ پاکر کھونے کا نام ہے مگر کبھی کبھی جذبات والد کی جدائی پر آنکھوں کو پانی پانی کر دیتے ہیں ۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے اس حقیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ جب والد محترم کے جدائی کی گھڑی قریب آگئی میرے پاؤں تلے زمین نکل رہی تھی۔ پھر میرے کانوں میں آواز سنائی دی "اناللہ وانا الیہ راجعون " پھر جب میں نے والد محترم کا چہرہ دیکھا۔ اتنا اطمینان، سکون، اتنی معصومیت ان کے چہرے پر تھی، جیسے کوئی بچہ سکون کی نیند سو رہا ہو۔
یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ عابی
سنا ہے باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چبھتے
قبلہ گاہ، ابوجی ، باپ، والد اور جس نام سے بھی یاد کیا جائے تو ایک ایسی شخصیت کا روپ سامنے آتا ہے ، جو اپنے اولاد کے لیے شفقت، پیار اور تحفظ کی سب سے بڑی علامت ہے ۔ باپ اولاد کی تربیت سے کبھی غافل نہیں ہو سکتا۔ اُس کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنے کے ساتھ اُسے بہترین زیور تعلیم سے بھی آراستہ کرے۔ باپ اللہ کی ایک عظیم ترین نعمت ہے، خوش نصیب اور اور خوش قسمت ہیں وہ۔ لوگ جنہیں یہ عظیم نعمت میسر ہے ۔ باپ ایک سایہ دار درخت ہے جس کے سایہ میں بچے محفوظ ہوتے ہیں ، ہر غم اور ہر ستم سے آزاد ہوتے ہیں ، نہ فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی کا ڈر، باپ حوصلہ ہوتا ہے ایک ایسا حوصلہ جو صرف اور صرف
باپ کے ہونے تک ہی ہوتا ہے۔
جب مجھ بد نصیب کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا، پاؤں تلے زمین نکل گئی، یہ وہ سیاہ شام تھی میرے لئے جب میرے والد محترم اس فانی دنیا سے رخصت فرما کر مالک حقیقی سے جاملے ۔ زندگی جہاں بہاریں ہی بہاریں تھیں ، وہاں اک ایسی خزاں نے ڈیرا ڈالا کہ خوشیاں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روٹھ گئیں ، یوں میرے خوشیوں اور مسرتوں کی کھلکھلاتی رنگینوں میں مست معصوم سی زندگی پر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس وقت والد محترم کی وفات میرے لئے ایک چیلنج بن کر سامنے آگئی ۔ زندگی یقینا اک عارضی ٹھکانہ ہے کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں ان کی موت کا صدمہ واقعی ایک امتحان ہوتا ہے، اس کا مجھے شدت سے احساس ہوا، ایک طرف کٹھن حالات تو دوسری جانب معاشرے کی مصنوعی تسلیاں، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ زندگی کو کس طرح بسر کیا جائے ۔
زندگی میں وہ دن کبھی نہیں بھولایا جائے گا جب کوئی محبت کرنے والا جدا ہوا ہو۔ والد کا رشتہ ماں کے بعد تمام انسانی رشتوں میں مقدس اور اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے ۔ باپ ایک ایسا درخت ہے جو آگ اور دھوپ کو خود برداشت کرتا ہے لیکن اپنی اولاد کو سخت ترین گرمیوں میں بھی ٹھنڈک اور راحت فراہم کرتا ہے ۔ میرے والد کا شمار بھی ایسے ہی عظیم لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اپنی اولاد کی تربیت اور محبت کے لئے وقف کیا تھا۔ والد کی زندگی میں اولاد معاشرے کے رسم رواج کے بندھن سے آزاد ہوتے ہیں باپ خود بھوکا رہ کر اولاد کی پیٹ پالنے میں دن رات ایک کرتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ والد کی شفقت بھری ایک نظر اولاد کو یک دم تر و تازه کر دیتی ہے ، تو اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ باپ کا وجود، اولاد کے لیے زندگی میں بڑی حوصلہ دیتی ہے ۔باپ کا رشتہ ان کے چلے جانے سے ٹوٹ نہیں جاتا۔ وہ اس دنیائے فانی سے جانے کے بعد بھی ہم سے وابستہ رہتے ہیں ۔اُن کی نیک دعائیں ہمیشہ ہمارے پاس ہوتی ہیں ۔ ہر باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلی معیار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کر سکے اور معاشرتی ترقی میں بہتر طور پر اپنا کردار ادا کر سکے ۔
مجھ کو رکھا چھاؤں میں خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا ہے ایک فرشتہ باپ کے روپ میں
والد محترم نے اپنی زندگی کے تقریبا پچیس سال علاقے کی ترقی، سماجی اور فلاحی خدمات میں گزارے جس کی وجہ سے وادی یارخون کے مکین اُن کی جدائی کو علاقے کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہیں ۔ والد محترم کواللہ تعالی نے بہت ساری نعمتوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری کی بہت بڑی دولت عطاء کی تھی۔ انہوں نے پوری زندگی غم زدہ انسانوں کی دل جوئی میں گزارا اس لئے سارا علاقہ اُن کی بے وقت موت کی وجہ سے غم زدہ ہے ۔ والد صاحب علاقے کو در پیش بنیادی مسائل کے حل کے لئے پیش پیش رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ۔ اُن کی جدائی کے غم میں وادی یارخون کے چھوٹے بڑے، مرد عورت سب اشکبار نظر آتے ہیں ۔ میں اُن سب کا مشکور ہوں جنہوں نے دن رات والد محترم کی تعریف کرتے کرتے میرا اور میرے اہل خانہ کا دل بہلاتے ہیں ۔
بے نور سی لگتی ہے اس سے بچھڑ کے یہ زندگی
زید اب چراغ تو جلتے ہیں مگر اُجالا نہیں کرتے
۱۰ مارچ ۲۰۲۴ کو میرے والد محترم ہم سے بچھڑ گئے مگر ان کی یادیں اور ان کی جدائی کا درد آج بھی تازہ ہے ۔ اُن کی محبت اور شفقت سے بھرے ہوئے ہر الفاظ کانوں میں گھونجتے ہیں ۔ اس درد بھرے دل کو کبھی آنسوؤں کی طوفان میں بہاتے ہیں تو کبھی خشک صحرا کے دھوپ میں جلاتے ہیں ۔ والد مرحوم کی کمی کے باعث میری خوشیاں، میری دنیا اور میرے دل کی مسکراہٹ والد صاحب کیساتھ منسلک تھی، لیکن اُن کے جانے کے بعد تمام تر مسرتیں ، رعنائیاں کھو گئیں ، سب ویران پڑ گیا ۔ والد محترم گھر کی تمام رنگینوں کو اپنے ساتھ ہی لیکر گئے ۔
اگر چہ یہ دنیا عارضی ہے اور اس کو سب نے ایک نہ ایک دن چھوڑنا ہی ہے ۔ لیکن بعض اوقات کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن میں والد خاص طور پر شامل ہیں ان کی اچانک جدائی کا سوچ کر سب کچھ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے ۔ لوگوں کی زبانی یہ سن کر مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میں ایک ایسے باپ کا بیٹا ہوں جس نے اپنی محنت، لگن، شوق، دیانت داری اور وفاداری کے ساتھ ساتھ اپنے قائم کردہ اصولوں، خیالات، سوچ، فکر، اخلاقی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بھر پور زندگی گزاری ہے اور اس کا عملی اعتراف علاقے کے ہر بچے بچے کرتے ہیں ۔
اس وقت میں اپنے آپ کو تنہا اور اداس محسوس کرتا ہوں مگر میں ذاتی طور پر آج جو کچھ ہوں، جو عزت کمائی، جو شہرت ملی ہے اس میں اللہ تعالی کے فضل کرم اور میرے والد کی محنت اور دعاؤں کا نتیجہ شامل ہے ۔ میرا سر فخر سے بلند ہوتا ہے جب لوگ شاندار الفاظ میں میرے والد کی خدمات، شفقتوں اور محبتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ میری سب سے التجاء جن خوش بخت لوگوں کے والد ابھی تاحیات ہیں ، وہ اُن کی قدر کریں ، ان کی خدمت کریں، ان کی فرمانبرداری کریں، ان کو ہر حال میں خوش رکھیں ۔ اللہ تعالی
والد محترم کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی
مقام عطا کرے آمین ۔
از قلم:- انصاری شجاع الرحمن انعام الرحمن

0 تبصرے