رحمن کا انعام ـــ انعام الرحمن
از:- محمد عارف دلار سر
زینتِ قرآن سورہ رحمن میں رب کا فرمان کہ سن اے انسان فبای الاء ربکما تکذبان (تم پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے) خالقِ ارض وسماء ،مالکِ کون و مکاں ،مصورِ کائنات ،معمارِ شمس و قمر، بانئ بحر و بر اللہ رب العزت کی بےشمار نوازشیں بنی نوع انسان کو شب و روز میسّر ہیں. نزولِ انعامات میں ایک مخصوص انعام ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو قوم و ملّت کے لیے بے لوث خدمات انجام دیتی ہیں. ان میں ایک نام انعام الرحمن سر کا بھی ہے.
انعام الرحمن سر کی اہلِ خانہ سے انسیت، طلبہ کی نگہداشت کی چاہت، سماجی ضرورتوں کی تکمیل سے اْلفت، اے ٹی ٹی انتظامیہ اور مختلف اداروں کے کاموں سے رغبت، دوستوں کےلیے محنت کی و مشقّت ان کی اعلیٰ شخصیت کی وضاحت ہے. ہر کسی کو خوشحال رکھنے کے اعمال بے مثال، سکھ دکھ میں فیصلے با کمال، تقاریب میں مفید تجاویز کا جمال تو تھا ساتھ ساتھ الجھن سلجھانے میں ان کے جلال پر کسی کو ملال نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کی حکمتوں کا ہر کوئی استقبال کرتا تھا. وجہ
ع
خلوص و مہر کا حامل جو اک انسان ہوتا ہے
زمانے کی نگاہوں میں وہی ذی شان ہوتا ہے
دنیا و آخرت میں انسان کی سرخرو ئ کی پہچان اخلاق کے میزان کے اوزان پر منحصر ہے. مرحوم انعام الّرحمن سر
ان شاءاللہ اس میں کامران ہوں گے. اہلیہ شبانہ و اولادیں ان کی شان، تعلیم و سماج میں ان کی الگ پہچان، دختر عظمیٰ MBBS میں تو اختر شجاع بارہویں سائینس کے امتحان کے لیے شب و روز محنت کر رہے ہیں. شجاع حقیقی شجاع ہے. میں نے اپنی زندگی میں ایسا بہادر بیٹا نہیں دیکھا والدِ مرحوم کے جسدِ خاکی کے پاس ہے آنسو نجانے کہاں چھپا رکھا تھا بڑے ابّو نعیم الرحمن، احتشام الرحمن، چا چا شفیق الرحمن، عتیق الرحمن، حبیب الرحمن، عبید الرحمن، فضل الرحمن، ظلّ الرحمن کو تسلّی دے رہا ہے. ہماری بہنیں مخلص بھائی کی جدائی پْر نم آنکھوں سے دیکھ رہی ہیں کلمہ شہادت پڑھ رہی ہیں. بمطابق حدیث مرحوم کو شہید کا درجہ حاصل ہو گا ان شاءاللہ.
والدِ مرحوم عبدالوحید سیٹھ اور والدہ مرحومہ فاطمہ کی تعلیم حاصل و تربیت ایسی تھی کہ
ع
کم سے کم اتنا معطّر تو ہو انساں کا خلوص
گھر سے نکلو تو پڑوسی کو بھی خوشبو آے
بھائی بہنوں کا اتّحاد منوّر نصیب، اے ٹی ٹی منتظمین میں نہایت مقبول و حبیب، دوستوں ساتھی اساتذہ کے حد درجہ قریب، اوقات کا ماہر حسیب، کام کی احسن تکمیل کے نقیب شخص کے تجربات، دلی احساسات، مشاہدات، نظریات، قوم و ملّت کی خدمات، عنایات اظہر من الشمس ہیں.
طلبہ کی موثّر تدریس و تادیبی کارروائی، شہر اور بیرون شہرتدریبِ اسکالرشپ کی طلبہ اساتذہ صدرمدرس میں پیمائش کاری ،مفیدکارآمد اردو گائیڈ کی تیاری ،NEET کلاسیس کی آبیاری، تقاریب میں نظامت معیاری ،مقابلوں کے لیے تقریر کی تحریر اور اس کی تیاری میں غضب کی فنکاری سنگمنیر اور اے ٹی ٹی ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے گلشن کی گْل کاری ہے.
سماجی تعلیمی فلاحی افعال کے لیے مرحوم انعام الّرحمن سر کی ملاقات ریاستی مرکزی وزراء سے اہم بات نیز ممبئی، پونےاور مہاراشٹر کے اثر و رسوخ والی شخصیات سے تبادلہ خیالات شہر کی مشکلات کا حل ثابت ہوتی تھیں.
تنظیم CCI کا فعال رکنِ انجمن، NEET گلشن کا گْل سمن، مومن کانفرنس سے قلبی لگن، مسلم مجلسِ مشاورت کے کام احسن غرض ہر شعبہ میں ردشن مشن مرحوم انعام الّرحمن سر کے کامیاب زمن کی عکاسی ہے. ہندو مسلم ایکتا سنگھٹنا، انجمن ترقی اردو (ہند) میں کارآمد شمولیت ان کے اعلیٰ کردار کی خصوصیت ہے.
مستحق طلبہ کا ساتھی اپنی ضرورتِ ذاتی کی فکرسے آزاد جذباتی اس طرح کہ
ع
خدمتِ خلق کے جذبات رہے پیشِ نظر
زندگی برسرِ پیکار رہی شام و سحر
درد آشنا شخص اپنی لگن میں اس طرح مگن کہ
ع
دھوپ کو چن لیا مسافر نے
اب رہے سایہء شجر تنہا
اس کی کوشش کاوش اس بات کا ثبوت ہے کہ
ع
مٹّھی میں دھوپ لے کے سفر رات کا کروں
مجھ پر تو چاند تاروں کا لشکر عذاب ہے
مسلم طلبہ کو حکومتی سہولیات میسر نہیں تھیں. تعلیمی معاشی پسماندگی کے تناظر میں احساس.
ع
دیکھی گئی نہ مجھ سے اندھیروں کی سرکشی
پھر بن کے آفتاب نکلنا پڑا مجھے
لہٰذا علم و عمل کے اس آفتاب کی ضو فشانی عنایاتِ ربّانی کی صورت چمنِ عزیز میں نمایاں ہو گئی.
دوستوں سے اس کا برتاؤ قابلِ تقلید، ان کی خدمت کا جذبہ شدید، مینو کا انتخاب قابلِ دیداس کے حسنِ انتظام سے رفیقوں کی عید مہمان نوازی سے سبھی مرید کھرا سونا تھا سونا فرزندِ وحید ان شاءاللہ اس سے مزیّن ہو گی فہرستِ شہید.
رفیقانِ بزم میں انعام سر کی آواز پر لبیک کہنے والوں میں اوّل حاجی افتخار پہلوان، حاجی نہال احمد، روزآنہ شب و روز کے ساتھی انوراستاد، عثمان غنی، شاہد ایوبی، شکیل سموسے والے، نہال غفران، مرحوم شکیل ٹینی، نہال احمد، عقیل نو جیون، ظہیر ہادی. اے ٹی ٹی کے اساتذہ میں سعودسر، مجتبٰی سر، شفیق کلر سر، زاہد سر، زاہدپاوےسر، سہیل سر، جنید سر، خلیل سراور دیگر اساتذہ. صحافیوں میں بچپن کے دوست عبدالحلیم صدیقی، مختار عدیل(شاگرد)، رضوان ربّانی سے گہرے مراسم تھے. دردناک غمناک سانحے کی خبر سن کر اہلِ خانہ سے رابطے میں رہے. ہر کوئی اپنی بساط بھر کوشش کرتے رہے. دعاؤں کا سلسلہ دراز کرتے رہے.
سعود سر، مجتبٰی سر. بہنوئی عبید. بھائ شفیق جسدِخاکی کلکتہ سے مالیگاؤں لانے تک لگاتار کام میں مصروف رہے. 8مارچ بروز جمعہ کو حادثہ ہوا. زینہ سے اچانک گرے صدائے اللہ اکبربلند کی پیٹھ کے بل گرنے سے سلاخ آر پار ہو گئی. 10مارچ بروز اتوار کو میڈیکا ہاسپٹل میں آخری سانس لی.
انا للہ وانا الیہ راجعون.
دینی عصری سماجی فلاح کے لیے ہمیشہ سفر میں رہنے والا باہنر بشر، پروفیسر، ڈائریکٹر، فلاسفر، کرکٹر، ٹرینر ہماری نظر سے اوجھل تو ہو گیا مگرہمارے دل و جگر میں تا حیات گھر کر گیا.
کافی مشکلات پریشانیوں میں تمام قریبی دوست لگاتار پانچ دنوں تک اہلِ خانہ کے قریب رہ کرمشکلات کو حل کرنے میں لگے رہے. بروز منگل پہلے روزے کو جسدِخاکی کی تدفین مالیگاؤں بڑے قبرستان میں کی گئی. مرحوم انعام الرحمن سر کے لیے قلب کی عمیق گہرائیوں سے دعا ہے کہ
ربِّ کریم تْربت میں اجرِ عظیم عطا کرے. لحدکو گلشنِ بہشت میں تبدیل کرے. قبر کو نور سے منوّر کرے. آمین.
ع
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

0 تبصرے