خطاطی کو نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔امتیاز انصاری
فن خطاطی پر اردو کارواں کا خصوصی ویبنار
ممبئی ٢٣ دسمبر:فن خطاطی کی اہمیت اور رموز نکات پر مبنی اردو کارواں کے عشرہء اردو کے تحت آن لائن مذاکرے کا انعقاد کیا گیا.
گفتگو میں اسلم کرتپوری ماہر خطاط ممبیء ، امتیاز انصاری ماہر خطاط،شہادہ، شفقت احمد، کشمیر و رضوان ربانی، نے حصہ لیا.
پروگرام کی شروعات میں فرید احمد خان صدر اردو کارواں نے فن خطاطی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "خطاطی ایک آرٹ ہے اور کویء بھی فن اپنے عروج پر اس وقت نہیں پہنچتا جب تک اس میں ریاضت نہ ہو، فن خطاطی سے نوجوان طبقے کو روشناس کراناوقت کی اہم ضرورت ہے"
شعیب ابجی نایب صدر اردو کارواں نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی.
شبانہ خان ،جنرل سیکریٹری نے کہا کہ "خطاطی صرف فن ہی نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب کا بھی حصہ ہے, مغلیہ عہد سے لیکر عصر حاضر میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا. اس فن کی اہمیت اور اس فن سے وسائل کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے یہ جاننا طلباء کے لیے اشد ضروری ہے."
فرید احمد خان نے مہمانوں کا تعارف بھی کروایا . امتیاز انصاری شہادہ نے بتایا کہ اس فن میں مہارت حاصل کرکے نہ صرف روزی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے بلکہ شہرت بھی حاصل کی جا سکتی ہے، انھوں معلومات فراہم کرتے ہوے کہا کہ ایران میں خطاطی باقاعدہ نصاب میں شامل ہے اور حکومت امداد بھی دیتی ہے، انھوں نے مشورہ دیا کہ ہمارے یہاں بھی ایسا ہونا چاہیے. فن خطاطی کو فاین آرٹس، اور سنگتراشی کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے. یہ سوال پوچھے جانے پر کہ اس فن کو روزگار سے کیسے منسلک کیا جا سکتا ہے، انھوں نے کہا کیء بار جہانگیر آرٹ گیلری میں خطاطی کی نمایش لگای جاتی ہے اور شائقین خطیر رقم دے کر اسے خریدتے ہیں. دہلوی، دیوانی اور لاہوری خطاطی کی اقسام پر بھی روشنی ڈالی. انھوں نے فن خطاطی کو ہر دور میں قایم رہنے والا فن بتایا.
شفقت احمد خطاط (کشمیر) نے کشمیر میں خطاطی کی اہمیت اور مقبولیت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فن انکو اپنے خاندان سے وراثت میں ملا ہے اور عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ جدید رجحانات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں.مثلا خطاطی والا نکاح نامہ
اسلم کرتپوری ماہر خطاط نے کہا کہ "یہ سہی ہے یہ فن کچھ معدوم سا ہو گیا تھا مگر اب پھر سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں, انہوں نے مزید کہا کہ "کمپیوٹر خطاطی نہیں کر سکتا یہ کام ایک ماہر خطاط ہی کر سکتا ہے." انھوں نے خطاطی کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی. اور بتایا کہ آج کل اس کی اہمیت گھروں سے لیکر کاروباری امور میں بھی بڑھ گیء ہے لوگ قیمتی اور بیش قیمت طغرے لگا کر اپنے گھروں کی زینت و زیبائش میں اضافہ کر رہے ہیں. غیر مسلم بھی اس فن کو اپنا رہے ہیں اس سلسلے میں انھوں نے غیر مسلم طلباء کی مثال دی جو اس فن کو سیکھ رہے ہیں. انھوں نے کہا کہ اساتذہ کو اس فن کو سیکھنا اشد ضروری ہے، تاکہ انکی تحریر بہترین ہو، کیونکہ تحریر شخصیت و سلیقہ کا آئینہ ہوتی ہے. اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے، طلباء میں خطاطی کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے.
ربانی خطاطی مرکز، مالیگاوں کے رضوان ربانی سر نے فن خطاطی پر بات کرتے ہوے اس فن کو سیکھ رہے طلباء سے نہ صرف بات کروائی بلکہ طلباء نے براہ راست سوالات بھی کیے. اور ان کا تسلی بخش جواب مہمان مقررین نے دیا.
اس ویبنار میں طلباء کی بڑی تعداد کے علاوہ اردو کارواں ممبیء و اورنگ آباد کے اراکین، نفیسہ شیخ رابطہ کار اورنگ آباد، راشدہ کوثر، بن ناصر سر، پرنسپل سائرہ خان، شبانہ ونو، ظفر عباس موجود تھے.
مہاراشٹر ،کرناٹک، تلنگانہ، کشمیر سے شرکاء آن لائن جڑے ہوئے تھے۔
اردو کارواں کا عشرہء اردو کا پانچواں پروگرام
مقابلہء افسانہ گویء،آن لائن
اتوار ،٢٥ دسمبر

0 تبصرے