مالیگاؤں کے حافظ محمد فضیل رضا نے ایک ریکارڈ قائم کردیا .....
نماز فجر اور ناشتے کا وقفہ نکال دیں تو سوا نو گھنٹوں میں مکمل قرآن کی تلاوت کا اعزاز دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں میں زیر تعلیم رہ کر ڈھائی برسوں میں حفظ قرآن کرنے والے اس ہونہار طالب علم نے اپنے نام کر لیا .....
قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کو تسلیم کرنے کے لیے یہی بہت ہے کہ یہی وہ کتاب ہے، جس کے نزول کو چودہ سو برس گزر چکے لیکن وہ اب تک محفوظ ہے ، اور کیوں نہ ہو کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود رب العالمین نے لیا ہے ...... ،
یہ انسانی عقل میں آنے والی بات نہیں کہ سیکڑوں صفحات پر مشتمل کوئی کتاب ایسی بھی ہو سکتی ہے جو بغیر کسی حرف اور لفظ کے رد و بدل کے لاکھوں دلوں میں نقش ہو .......... ،
مسلمانوں کے لیے تو یہ حیرانی کی بات نہیں اس لیے کہ کمسن بچوں سے لے کر نوجوانوں اور بزرگوں کا حافظ قرآن ہونا ان کے اپنے مشاہدے میں ہے لیکن دنیا کے دیگر انسانوں کے لیے یہ ایک ناقابل یقین بات ہے، افسوس کہ قرآن کے حوالے سے اب تک یہی بات عام انسانوں تک پہنچانے میں ہم کامیاب نہیں ہوسکے ........... ،
بہت اطمینان اور خوشی کی بات ہے کہ اس وقت حفظ قرآن کا شوق مسلم طلبا میں پروان چڑھ رہا ہے ، اور یہ شوق اس وقت اپنی انتہا کو پہنچتا ہے جب کوئی طالب علم اپنے دل میں یہ ارادہ کرتا ہے کہ مجھے ایک نششت میں ہی مکمل قرآن کریم کو سنا نا ہے .......
اس مضمون میں محمد فضیل رضا نامی ایک ایسے ہی طالب علم کی کوشش اور جدوجہد سے قارئین آگاہ ہوں گے ، جس نے 10 دسمبر 2022 سنیچر کو اپنی مادر علمی دارالعلوم حنفیہ سنیہ اسلام پورہ مالیگاؤں میں صرف پونے دس گھنٹوں کی ایک نششت میں مکمل قرآن کریم کی تلاوت کا شرف حاصل کرتے ہوئے ایک ریکارڈ قائم کیا ،
اپنے استاذ حافظ وقاری شاہد رضا صاحب اور اپنے ہم جماعت دیگر چار حفاظ کی موجودگی میں بوقت سحر چار بج کر پانچ منٹ پر بسم اللہ شریف سے سورہ ء فاتحہ کی تلاوت کا آغاز حافظ محمد فضیل رضا نے کیا، ٹھیک 6 بجے جب فجر کی نماز کا وقفہ ہوا تو 6 پاروں کی تلاوت مکمل ہو چکی تھی ، پھر جب دوپہر میں موصوف نے سورۃ الناس پڑھ کر قرآن شریف کی تلاوت مکمل کی تو گھڑی کی سوئیاں ایک بج کر پچاس منٹ ہونے کا اعلان کر رہی تھیں ،
اگر نماز فجر کی ادائیگی اور ناشتے وغیرہ کا وقفہ اس میں سے نکال دیا جائے تو پھر کہہ سکتے ہیں کہ صرف سوا نو گھنٹوں میں قرآن پاک کے تیس پاروں کو سنانے کا اعزاز حافظ محمد فضیل رضا کو حاصل ہوا ،
نوجوان عالم دین مولانا احمد رضا ازہری صاحب نے ایک نششت میں ختم قرآن کی اس با برکت اور مقدس تقریب میں فضائل قرآن کے عنوان پر ایمان افروز اور فکر انگیز خطاب کیا اور رقت انگیز دعا فرمائی ، تلاوت قرآن کی محفل بہت ہی یادگار رہی ، نماز فجر کے بعد سے علمائے کرام، ائمہ مساجد، حفاظ کرام کے علاوہ احبا و اقربا کی آمدو رفت کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ، بیک وقت پانچ پانچ سات سات حفاظ کی موجودگی میں جس اطمینان اور خود اعتمادی کے ساتھ حافظ فضیل رضا نے قرآن پاک سنایا اس سے ہر کوئی نہ صرف متاثر ہوا بلکہ اس کا اعتراف بھی علمائے کرام اور حفاظ نے کیا ، پچیس سے زائد علماء و حفاظ نے اس مجلس میں شریک ہوکر تلاوت قرآن کو سماعت کیا جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں ، مولانا حافظ فہیم احمد رضوی، حافظ نوید رضوی، حافظ ریاض احمد رضوی ، ڈاکٹر حافظ محتشم کاملی، حافظ شیخ راشد اشرفی، حافظ عبدالروف رضوی ،حافظ ذکوان اشرفی، حافظ مجتبیٰ رضا ، حافظ عبید رضا ، حافظ شریف رضوی ،حافظ ابوطلحہ ، حافظ عبدالقادر
حافظ خالد رضا، حافظ مزمل حسین رضوی، حافظ غلام یزدانی کاملی، حافظ عبدالخالق چشتی ، حافظ محمد ناصر چشتی ، حافظ محمد یاسر ، حافظ عابد رضوی، حافظ شاہد رضا رشیدی وغیرہ ،
بلاشبہ، یہ رب عزوجل کا فضل عظیم ہے جس نے محمد فضیل رضا کو یہ توفیق بخشی ، ایک نششت میں مکمل قرآن کو سنانا یہ کوئی آسان کام نہیں ، اس کے لیے کس قدر محنت درکار تھی اسے سمجھنے کے لیے جب فضیل رضا سے معلومات حاصل کی گئی اور دریافت کیا گیا کہ اس کام کی تحریک انہیں کیسے ملی تو حافظ موصوف نے بتایا کہ مجھ سے پیشتر حافظ عبداللہ رضا، حافظ مدثر ، حافظ کامران، اور حافظ مجتبٰی رضا نے گزشتہ دو تین برسوں میں ایک نششت میں مکمل قرآن کی تلاوت کی ، اس کی وجہ سے میرے دل میں کہیں نہ کہیں یہ تمنا موجود تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے اس خواب کی تکمیل میرے استاذ معظم حافظ و قاری شاہد رضا کے سبب ہوسکی ، جب پوچھا گیا کہ ایک نششت میں ختم قرآن کے لیے کس طرح کی منصوبہ بندی اور تیاری کرنا پڑی تو حافظ فضیل نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں قرآن کے پانچ دور میں نے کیے، پہلے نصف پاروں کا دور، اس کے بعد ایک ایک پاروں کا دور، پھر دو دو پاروں اور اس کے بعد تین تین پاروں کا دور سنایا اس طرح پانچ مرتبہ قرآن کی تلاوت کا شرف پچیس دنوں میں حاصل کیا، جب کہ دوسرے مرحلے میں پانچ پانچ پاروں اور دس دس پاروں کے بعد پندرہ پندرہ پاروں کا دور سنایا ، اس طرح دس دنوں میں یہ تینوں دور مکمل کیے اور پھر ایک دن آرام کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک ہی نششت میں قرآن پاک سنانے کی سعادت حاصل ہوگئی ، حافظ فضیل رضا نے بتایا کہ جو آٹھ دور میں نے کیے اس میں پندرہ پارے مولانا فیضان رضا صاحب کو چند پارے حافظ مختار احمد رضوی کو سنائے اس کے علاوہ قرآن کے تمام دور میرے شفیق ومہربان استاد حافظ شاہد رضا صاحب نے سنے، یہ اسی کڑی محنت کا ثمر تھا کہ میں مسلسل قرآن کریم پڑھتا رہا اور بہت ہی کم وقت میں اس کی تلاوت مکمل بھی ہوگئی .........
بلاشبہہ ، جسے مخلص اور شفیق ومہربان استاد میسر ہو جائے تو پھر کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے ، حافظ شاہد رضا کے پاس قرآن کریم کا حفظ مکمل کرنے والے طلبا کی تعداد پانچ درجن سے تجاوز کر چکی ہے، اس وقت چالیس سے زیادہ طلبا آپ کی نگرانی میں حفظ قرآن کر رہے ہیں جن میں چار پانچ طلبا ایسے ہیں ، جو فکر معاش کی وجہ سے عصری تعلیم سے دور ہیں بقیہ سبھی بچے ایسے ہیں جو اسکول کالج پڑھتے ہوئے حافظ قرآن بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں ......
حافظ محمدفضیل رضا نے بھی دسویں گیارہویں اور بارہویں جماعتوں میں زیر تعلیم رہ کر ڈھائی برسوں میں قرآن کا حفظ مکمل کیا، گزشتہ سال ہی شب براءت کو حفظ و قراءت کی دستار پائی اور رمضان شریف میں شہر کے معروف علاقے نور باغ میں واقع پاسبان ملت مسجد میں نماز تراویح میں پندرہ پارے بھی سنا دیے ، جب مستقبل کے تعلیمی سفر کے متعلق استفسار ہوا تو حافظ فضیل رضا نے کہا کہ میں سی اے کی تعلیم حاصل کرکے چارٹرڈ اکاونٹنٹ بننا چاہتا ہوں ، اسی کے ساتھ میری یہ بھی تمنا ہے کہ قرآن پاک اور دین کا خوب علم حاصل کرتے ہوئے اسے لوگوں تک پہنچانے کی بھی کوشش کرتا رہوں ..........
اپنے صاحبزادے کی اس قابل رشک کامیابی پر غلام فرید صاحب ( اپنا فیبرک ) نے ان تمام علمائے کرام، ائمہ مساجد، حفاظ حضرات اور احبا و اقربا کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے محمد فضیل رضا کی حوصلہ افزائی کی ، موصوف نے اس موقع پر اپنی والدہ مرحومہ اور اپنے پیرو مرشد شیخ طریقت حضرت سید فاروق میاں چشتی صاحب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اللہ رب العزت کا فضل و احسان ہے جو والدین اور بزرگوں کی مقبول دعاؤں سے حاصل ہوا ،
.................................................
شکیل احمد سبحانی

0 تبصرے