آئی اے ایس کا امتحان بہت سخت ہوتا ہے اس میں کامیاب ہونا بڑا مشکل ہے اس طرح کی منفی باتیں ہمارے درمیان گردش کرتی رہتی ہیں۔ اور ہمارے نوجوان چاہ کر بھی ہمت نہیں کرتے، ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور سرے سے اس امتحان میں شرکت ہی نہیں کرتے، جبکہ آئی اے ایس کا امتحان یقیناً دشوار و کٹھن ہے لیکن ناممکن نہیں آئی اے ایس امتحان کامیاب کرنے والے آسمان سے نہیں ٹپکتے اور نا ہی وہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہیں۔ وہ بھی ہماری، تمہاری طرح ایک عام انسان ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ ان میں کامیابی کا یقین، لگن، تڑپ، بلند حوصلگی، عزم محکم اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کی دھن سوار ہوتی ہے تب جا کر انہیں کامیابی ملتی ہے- اور وہ زمانے میں سرخرو ہوتے ہیں- مگر یہ کامیابی ایک دو روز، ایک دو ماہ یا ایک دو سال میں نہیں ملتی- اس کے لیے برسوں کی محنت، صحیح منصوبہ بندی اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے-
ان ہی باتوں کے پیش نظر مالیگاؤں ایجوکیشنل فورم کے صدر محترم الحاج ڈاکٹر منظور حسن ایوبی صاحب کی ایماء پر اور فورم کے سرپرست، فیروز حسین بادشاہ سر کے مشوروں سے دیگر اراکین فورم نے ایک منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت شہر عزیز کی تمام ہائی اسکولوں کی جماعت نہم کے طلباء و طالبات کے درمیان ایک نصاب اور کرنٹ افئیرز(حالات حاضرہ) پر مشتمل پیپر ترتیب دے کر ایک مقابلہ جاتی امتحان منعقد ہوگا جو یو پی ایس سی طرز پر ہوگا-
مقابلے کی شرائط و ضوابط، امتحان میں شرکت سے متعلق ضروری معلومات جلد ہی اخبارات و شوشل میڈیا کے ذرائع سے دی جائے گی۔
فقط
انصاری مختار یوسف

1 تبصرے
بہت خوب
جواب دیںحذف کریں