نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل (اور کمالات) بے حساب ہیں, نہ کوئی قلم ان کا احاطہ کرسکتا ہے, نہ کوئی بیان ان کا حق ادا کرسکتا ہے.
شاعر کہتا ہے:
حسنِ یوسف, دمِ عیسی, یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی, عیسی علیہ السلام کی پھونک اور موسی علیہ السلام کا روشن ہاتھ رکھتے ہیں ..... جو خوبیاں سب رکھتے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رکھتے ہیں ۔
اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
وَاَحسَنَ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَيْنِيْ
وَاَجْمَلَ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ
خُلِقْتَ مُبَرَّاً مِّنْ كُلِّ عَيْبِ
كَاَنَّكَ قَدْ خُلِقْتَ كَمَا تَشَاءُ
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمدہ میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا ..... اور آپ سے خوبصورت کوئی شخص عورتوں نے نہیں جنا ..... آپ ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ..... گویا آپ جیسا چاہتے ہیں پیدا کئے گئے۔
اور مولانا عبد الرحمن جامی قدس سرہ فرماتے ہیں:
يَا صَاحِبَ الْجَمَالْ، وَيَا سَيِّدَ الْبَشَرْ
مِنْ وَجْهِكَ المُنِيْرِ لَقَدْ نُوِّرَ القَمَرْ
لَا يُمْكِنُ الثَّناءُ كَمَا كَانَ حَقُّهُ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
ترجمہ: اے صاحب حسن وجمال! اے انسانوں کے آقا ..... آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور سے چاند کو روشنی نصیب ہوئی ہے ..... آپ کی تعریف جیسا کہ تعریف کا حق ہے ممکن نہیں ..... پس مختصر بات یہ ہے کہ اللہ کے بعد بزرگی میں آپ کا مرتبہ ہے۔
اور حکیم شیراز قدس سرہ فرماتے ہیں:
بَلَغَ العُلٰي بِكَمَالِهِ
كَشَفَ الدُّجٰي بِجَمَالِهِ
حَسُنَتْ جَمِيْعُ خِصَالِهِ
صَلُّوْا عَلَيْهِ وَآلِهِ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کمالات کے ذریعہ بلندی کو پہنچے ..... تاریکیوں کو اپنی خوبصورتی سے چھانٹ دیا ..... آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری ہی عادات بہترین ہیں ..... آپ پر اور آپکے خاندان پر درود بھیجو ۔
درود شریف
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا اَبَدًا
عَلٰي حَبِيْبِكَ خَيْرِ الخَلْقِ كُلِّهِمِ
ترجمہ: اے پروردگار! ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام بھیج ..... اپنے حبیب پر جو ساری خلقت سے بہتر ہیں.

0 تبصرے