مہاراشٹر کالج ممبئی میں تقریب رسم اجراء

مہاراشٹر کالج، ممبئی میں تقریبِ رسمِ اجراء اور رہنمائی سیمینار کامیابی سے ہمکنار

 ’’ راہنما اسٹیٹ سروسیز امتحان‘‘  اور ’’اسکالرشپ اسکیمیں‘‘ جیسی کتابیں وقت کی ضرورت ہیں۔ حسن عبدالکریم چوگلے


پریس ریلیز :- نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل ہی طلبہ کی رہنمائی سے متعلق دو اہم ترین کتابوں کی تقریبِ رسمِ اجراء اور ’’مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری ‘‘ کے عنوان پر رہنمائی سیمینار کا کامیابی سے انعقاد عمل میں آیا۔
12؍مئی  2022ء بروزجمعرات، صبح 11 ؍بجے ناگپاڑہ پر موجود مہاراشٹر کالج کے آڈیٹوریم میں پروفیسر ایچ این کلانیہ صاحب کی صدارت میں منعقد اس پروگرام میں قطر سے تشریف لائے  حسن عبدالکریم چوگلےصاحب ،چیئرمن، آئیڈیل فاؤنڈیشن، ممبئی؛ ون آف دی ہنڈریڈ گلوبل انڈین چیف گیسٹ کے طور پر موجود تھے۔
مفتی شمس الدین صاحب کی قرأت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ پروگرام کے کنوینر اورناظم مشیر احمد انصاری نے پروگرام کے اغراض و مقاصد اور مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ لاتور سے تشریف فرما ڈاکٹر خلیل صدیقی صاحب نے پروگرام کے لیے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئےزور دے کر کہا کہ ہماری قوم کے مسائل ہمیں خود حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے اشفاق عمر کی کوششوں کی سراہنا کی ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلیاں لانے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضورت نہیں ہے۔ ہم اپنی جگہ پر رہ کر کسی بھی معاملے میں نئے کاموں کا آغاز کریں ،اس کا کسی بھی سطح سے آغاز کریں تو مسائل حل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
مہاراشٹر کالج کے پرنسپل اور پروگرام کے کنوینر ڈاکٹرسراج الدین چوگلے صاحب نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے حاضرین کا استقبال کیا۔انہوں نے مہاراشٹر کالج کی تعلیمی پیش رفت کا بھی خاکہ حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے گزارش کی کہ مہاراشٹر کے تعلیمی اداروں کی ایک انجمن بنائی جائے اور انجمن اسلام اس موضوع پر پہل کرے۔ بعدہ‘ انہوں نے ٹیکنیکل معاملات میں اشفاق عمر کی معاونت کا تیقن دیا۔
ڈاکٹر شیخ عبداللہ، نائب صدر، انجمن اسلام نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ ہمیں اقتدار والی تعلیم، منصب والی تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمیں اقتدار دیتی ہو، غلامی نہیں دیتی۔ اشفاق عمر نے اس سمت رہنمائی کی ہے اور اب ہمارے طلبہ اسی سمت جارہے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔ یہ ایک نئی راہ بتانے کی کوشش ہے جو روایتی تعلیم سے ہٹ کر ہمیں ایک نئی سمت لے جاتی ہے۔
’ اسکالرشپ اسکیمیں‘ اور ’راہنما اسٹیٹ سروسیز امتحان‘ کے مرتب اشفاق عمر نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تجزیئےنے بتایا تھا کہ ہم ’رہنمائی کی کمی ‘ اور ’ معاشی مسائل ‘ کی وجہ پسماندگی کے شکار ہیں اور اسی لیے انہوں نے ’مقابلہ جاتی امتحانات ‘ اور ’اسکالرشپ اسکیموں‘کے موضوع پرکتابیں لکھنے اور رہنمائی کے کام شروع کیا جس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے اور آج تک ہزارہا طلبہ نے فائدہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جہاں تعلیمی اداروں کی انجمنیں بنتی ہیں وہیں ہم جیسے تعلیمی خدمتگاروں کو بھی منصوبہ بند طریقے سے استعمال کیا جائے تاکہ قوم کو ہم جیسے ہزاروں لوگوں کا بھی بڑے پیمانے پرفائدہ پہنچ سکے۔
چیف گیسٹ حسن عبدالکریم چوگلے صاحب کے دستِ مبارک سے ’اسکالرشپ اسکیمیں‘ اور ’راہنما اسٹیٹ سروسیز امتحان ‘ نامی کتابوں کا اجراء عمل میں آیا۔حسن چوگلے صاحب نے اپنی مخاطبت میں کہا کہ خواب ہر کوئی دیکھتا ہے ، خواب دیکھنا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن خواب کو مکمل کرنے کے لیے آپ کی محنت بہت ضروری ہے۔ ایم پی ایس سی راہنما اور اسکالرشپ اسکیمیں، دونوں ہی اہم کتابیں ہیں ۔ ہم سب کا چاہئے کہ ہم ان کتابوں کو آگے طلبہ تک پہنچائیں۔موجودہ حالات میں ہمیں مقابلہ جاتی نوعیت کی تعلیم کی ضرورت ہے کیوں کہ ہر جگہ مقابلہ موجود ہے اور ہر کوئی کام کا معیار دیکھتا ہے۔ اچھی بات ہے کہ ہم میں کام کا معیارموجود ہے۔
صدرِ پروگرام پروفیسر کلانیہ نے صدارت خطبہ پیش کرتے ہوئے خصوصی طور پر کہا کہ جب تک ہم بلند ترین مقام پر نہیں پہنچیں گے تب تک ہمیں لوگ قبول نہیں کریں گے۔ اس لئے ہمیں بلند ترین مقام کی جانب اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔
خیرالاسلام ہائر ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ نگرانی جاری مہاراشٹر کالج آف آرٹس ، سائنس اینڈ کامرس، ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ سیل، ممبئی اور اردو گگن سنستھا، ممبئی کےاس مشترکہ پروگرام میں رہنمائے سول سروسیز امتحان ،راہنما اسٹیٹ سروسیز امتحان، اسکالرشپ اسکیمیں اور دیگر رہنماکتابیں برائے طلبہ و سرپرست جیسی کئی کتابوں کے مصنف اشفاق عمر نے ’’مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری‘‘ کے موضوع پر جونیئر کالج ،ڈگری کالج کے طلبہ اور اُن کے سرپرستوں کی خصوصی رہنمائی کی۔ 
پروگرام میں ڈاکٹر خلیل صدیقی (لاتور) کی مرتب کردہ کتاب " اردو ڈرامہ: کل ، آج اور کل" کی رسم اجراء بھی انجام دی گئی۔
پروگرام میں ایڈوکیٹ پروفیسر مبین صاحب، عبدالصمد شیخ (اوسا)،محمد عارف(احمد سیلر ہائی اسکول)، فاروق سیّد(گل بوٹے)،دانش ریاض (ایڈیٹر،معیشت) ، وقار شیخ(شولاپور)، عزیزشیخ (بھساول)، ڈاکٹر علاؤ الدین،یوسف پنجابی ، سیّدہ نوشاد بیگم، نعیمہ امتیاز، تبسم ناڈکر، منور سلطانہ(لنترانی)، احمد ایوبی (مالیگاؤں)، شگفتہ ایوبی(مالیگاؤں)، مصطفےٰ برکتی(مالیگاؤں)، صاحب میر حسن اور حنیف قمر( تریاق)، عبداللہ مسرور، مسرور شاہجہاں پوری، پرنسپل فرحانہ، آزاد چوگلے ، طلبہ اور ان کے سرپرستوں سمیت معززین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
محترم کمال مانڈلیکر اور پروفیسر عبدالماجد انصاری کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جارہا ہے کیوں کہ ان کے بیش قیمت تعاون سے اس پروگرام کا انعقاد ممکن ہوسکا۔  آخر میں مشیر احمد انصاری کی رسمِ شکریہ کی ادائیگی کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے