فن خطاطی و خوشنویسی بچوں کی ذہینی نشوونما کیلئے مفید : ڈاکٹر حامد اقبال 

ٹیکنالوجی سے لیس طلبہ اور آئی سی ٹی والے اساتذہ بھی لکھاوٹ سدھار سکتے ہیں : رضوان ربانی  

مالیگاؤں (ایس این انصاری) زمانہ چاہئے کتنی بھی ترقی کیوں نہ کر لے لیکن کچھ فن پاروں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہے گی. فن خطاطی و خوشنویسی سے نہ صرف زبانوں کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے بلکہ ذہن کی نشوونما بھی ہوتی ہے. لکھنے کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور لکھنے کا فن ہر کسی کے پاس بھی نہیں ہوتا. اگر بچوں کی ابتدائی تعلیمی دور سے فن خطاطی و خوشنویسی پر دھیان دیا جائے تو ان کی اچھی ذہنی نشوونما بھی ہوگی. اس طرح کا اظہار و خیال بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر حامد اقبال نے کیا. 
شہر مالیگاؤں کے معروف ڈاکٹر حامد اقبال نے گزشتہ روز ربانی خطاطی مرکز پر تشریف لائے اور چھوٹے بچوں کی لکھاوٹ دیکھ کر بہت خوش ہوئے. اس موقع پر انھوں نے تمام طلبہ کی حوصلہ افزائی فرمائی.انھوں نے طلبہ کو بتایا کہ آپ بہت خوش نصیب ہو کہ آپ جماعت اول سے اچھی طرح لکھنا سیکھ رہے ہیں ہمارے زمانے میں پانچوں جماعت میں بیاض اور قلم کا استعمال سکھلایا جاتا تھا. 

ربانی خطاطی مرکز کے روح رواں رضوان ربانی سر نے گزشتہ دو سالوں کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد اسکولیں بند ہوگئی اور تعلیم و تعلم کا سلسلہ قطع ہوگیا بعد ازاں آئی سی ٹی انٹرنیٹ و موبائل فون کے ذریعے آن لائن طرز پر درس و تدریس کی شروعات ہوئی. اسی دوران خطاطی مرکز کا آغاز ہوا اور فن خطاطی و خوشنویسی سیکھنے کیلئے سینکڑوں طلبہ و اساتذہ نے استفادہ کیا. 

رضوان ربانی نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال اور اسکول سے دوری کے سبب طلبہ لکھنا بھول گئے اور آئی سی ٹی والے اساتذہ کو بھی اپنی ہینڈ رائٹنگ کی فکر ہونے لگی. اسے حالات میں ربانی خطاطی مرکزی کی خدمات نے شعبہ خطاطی میں مسلسل خدمات کا جاری رکھا. انھوں نے بتایا کہ طلبہ تین سے چھ ماہ کی اندر اردو, ہندی, مراٹھی, انگلش اور عربی لکھنا سیکھ لیتے ہیں. ہر طلبہ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے. مراٹھی و انگلش زبان میں لکھنے کی مہارت سکھائی جاتی ہے. اس کلاس میں طلبہ دلچسپی سے لکھنا و پڑھنا سیکھ رہے ہیں.

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے