زر زن زمین  کیساتھ ہی زبان بھی جھگڑوں کی وجہ ہے- حافظ غفران قادری
نبی کونین حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے اپنی زبان کی حفاظت کی بھی تلقین کی ہے۔ کیونکہ زر زن زمین کیساتھ ہی زبان بھی آپس میں جھگڑوں کی ایک اہم وجہ ہے ان باتوں کا اظہار خطیب و امام اکھاڑہ مسجد حافظ غفران احمد قادری نے خطبہ جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کیا- آپ نے مختلف احادیث و اقوال کی روشنی میں زبان کی حفاظت پر زور دیا- آپ نے فرمایا کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ آپ نے کہا کہ نبی ﷺ کا فرمان چاہے کتنا ہی مختصر ہو، اپنے معنی و مطالب کے لحاظ سے اسمیں دنیا جہان کی نعمتیں اس میں پوشیدہ ہیں ایک مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہو سننے میں انتہائی مختصر ہے لیکن اگر آج بھی قوم مسلم اس ایک حدیث پر عمل پیرا ہو جائے تو مسلمانوں کے آپسی لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے اور قوم مسلم ایک ہو جائے آج انسان اپنے بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اپنی زبان سے کسی کو بھی تکلیف پہنچانے میں بالکل بھی آر محسوس نہیں کرتا، ایک زمانے سے یہ بات ہم سنتے آرہے ہیں کہ زر زن اور زمین ہی لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت گری کا باعث ہے۔ لیکن حدیث پاک کو سن کر ہم اس بات کا بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ آج زیادہ تر جھگڑوں کی وجہ زبان بنی ہوئی ہے فحش گوئی (گالی گلوچ)، طعنہ، طنز، زبانی چھیڑ خانی ایک عام بات ہو گئ ہے جس سے اپنے آپکو بچا پانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بنتا جارہا ہے حافظ غفران قادری نے مختلف مثالوں، حوالوں اور واقعات سے بھی زبان کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے بتایا کہ روزانہ صبح سارا جسم زبان سے درخواست کرتا ہے کہ دن بھر تو صحیح رہی تو ہم (سارا جسم) صحیح رہے گا- آپ نے کہا کہ حکیم لقمان کو جب انکے آقا نے کہا کہ بکری کی سب سے اچھی چیز پیش کرو تو آپ نے زبان اور دل پیش کیا پھر آپ نے سب سے خراب چیز مانگی تو وہی زبان و دل پیش کردیا۔ پوچھنے پر بتایا کہ یہی دو چیزیں ہیں جس نے اپنی زبان پر و دل پر قابو پالیا وہ مصیبتوں سے محفوظ ہو گیا۔ آخر میں آپ نے تمام ہی سامعین کو نصیحت کی کہ نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہوکر دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کی جا سکتی ہے- آپ نے عورتوں کو بھی مخاطب کر کے زبان پر قابو رکھنے کی صلاح دی-