مالیگاؤں میں اردو زبان و ادب کی ترقی ترویج و اشاعت میں جہاں شعراء ادباء کی کاوشات اظہر من الشمس ہیں وہیں ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشستوں کا بھی ایک بڑا حصہ رہا ہے- مورخہ ۲۸ دسمبر ۲۰۲۱ء، کو ماہانہ ادبی نشست نمبر ۱۹۰، معروف مدرس قلمکار و فنکار ڈاکٹر آصف فیضی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی جسمیں عبدالمجید ماسٹر نے(کہانی، قصہ نہانا تیلن کا) ظہیر قدسی نے(مزاحیہ مضمون، شاعری میں مرنے کی روایت) عجیب انصاری نے(مزاحیہ مضمون، شارخ آپا) آصف سبحانی نے(مزاحیہ مضمون،میرا ٹوٹا ہوا ہاتھ) اور صدر نشست ڈاکٹر آصف فیضی نے (ادبی مضمون، تنقید کیا ہے؟) اپنی تخلیقات پیش کیں۔ جس پر عمران جمیل، عبدالمجید صدیقی، عارف حسین، افضال انصاری، نور الدین نور، عرفان صدیقی، آصف سبحانی، برکتی مصطفیٰ، عبدالمجید ماسٹر، رضوان ربانی و دیگر نے تنقید و تبصرے کیے اور اپنے خیالات و احساسات پیش کیے- ڈاکٹر آصف فیضی نے بھی تمام تخلیقات پر اپنی آراء پیش کی اور صدارتی خطاب پیش کیا- قرآن پاک کی تلاوت سے نشست کا آغاز ہوا۔ صدر نشست قلمکاروں کا تعارف ناظم نشست رضوان ربانی نے پیش کیا ناظم کے شکریہ سے ہی نشست کا اختتام عمل میں آیا۔ جبکہ، نشست میں سراج احمد دلار، خلیل فریدی، مسعود رمضان پینٹر، شب انصاری، مجتبیٰ زید، محبوب خان، محمد امین مختار، ڈاکٹر عابد حسین، انصاری احسان الرحیم، نہال انصاری (ایم آر) ، ڈاکٹر مسعود سردار، عتیق عبدالرشید (مینیجر ہمدرد) فیضی عبدالرحمن، ہے-شفیق محسن، زبیر اقبال، ابنِ آدم، حنیف اشرفی، برکتی گلریز، ابراہیم شبیر وغیرہم اول تا آخیر موجود رہے- ربانی دی اسکالر یوٹیوب چینل پر پوری نشست قسطوں میں دیکھی جا سکتی ہے-

0 تبصرے