قبض قبض قبض



قبض قبض قبض

انسانی جسم کو اس مشنری سے مشابہت دی جاسکتی ہے جسے چلانے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے- ہر بار نیا ایندھن ڈالنے سے پہلے بھٹی کو اچھی طرح راکھ وغیرہ سے صاف کرلیا جاتا ہے تاکہ بھٹی میں آگ اچھی طرح جلائ جاسکے۔
معدہ بھی ایک بھٹی ہے۔ جس کا ایندھن خوراک (اناج، سبزیاں، پھل، گوشت وغیرہ)ہیں- جسم کے تمام اعضاء کو تندرست بناۓ رکھنے کے لئے خوراک درکار ہوتی ہے خوراک معدے کی بھٹی میں پکنے کے بعد رس تیار کرتی ہے یہ رس جگر میں خون وغیرہ بننے کے لیے چلا جاتا ہے اور باقی ماندہ فضلہ آنتوں میں اتر آتا ہے۔ اب اگر یہ فضلہ وقت معینہ پر بذریعہ مقعد (گدا) خارج نہیں ہوتا تو ہم اسے قبض کہہ سکتے ہیں جو کہ تمام امراض کی ماں (ام الامراض) ہے۔
اس مرض کے اسباب درج ذیل ہیں۔
دیر ہضم غذا، ثقیل روغنی غذا، لیس دار از قسم بھنڈی، کچالو وغیرہ زیادہ باریک پیسا ہوا اناج، میدہے سے بنی ہوئی مٹھائیاں، کچی اور سڑی ہوئی غذا، بے وقت کا کھانا، یہ سب قبض کے ذمہ دار ہیں۔ علاوہ ازیں طبی نقطہ یہ بھی ہے کہ جگر سے خارج ہونے والا سفراوی مادہ کم مقدار میں آنتوں کیطرف آۓ گا تو ظاہر ہے کہ فضلہ کو باہر نکلنے میں مدد نہیں ملے گی اور آنتوں میں ہی سڑاند پیدا کرتا رہے گا- 
آنتیں معدے سے حاصل شدہ فضلے کو قبول و خارج کرنے کےلیے ایک قسم کی مخصوص حرکات میں مصروف رہتی ہیں۔ ان حرکات Movement کے کمزور اور سست پڑ جانے سے قبض کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے مگر ان کا کمزور و سست پڑنا دراصل جگر سے آمدہ سفراوی مادے کی کمی و دیگر بنیادی اسباب ہیں۔
قبض سے ہاضمے کی کمی، بھوک نہ لگنا، حرارت معدہ کم ہونا، اپھارہ، غذا سے بے رغبتی، پیٹ کا بھاری پن، جمائیاں، سر چکرانا، پیٹ درد اور دیگر شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو رفتہ رفتہ خطرناک بیماری کی صورت اختیار کرلیتی ہیں- لہذا قبض کے معاملے میں چوکنہ رہنے کی ضرورت ہے- جہاں کہیں اس امر کی صورت پیدا ہو فوراً توجہ کرنی چاہیے-
علاج:-
قبض کے علاج میں دافع قبض ملین دوائیں دیں- مثلاً گلقند، اچھیا بھیدی رس، مربع ہڑ وغیرہ- اچھیا بھیدی رس آنتوں کو فضلے سے مکمل طور پر صاف کردیتا ہے۔ معمولی قبض اور نازک مزاج والوں کے لیے سکھ و ریچنی وٹی مفید رہتی ہے- تاراچ رس، گھوڑا چولی رس، کماری آسو، ابھیا ارشٹ، وراکشاسو، اور پپلی آسو بھی اسی مقصد کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں-

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے