*عمران جمیل*
*9325229900*
*رضائے الٰہی کی خاطر اخلاص، ایثارو قربانی سے معمور عیدالاضحٰی کایہ فلسفہ مومنین سے کچھ "عملی ایمانی تقاضوں "کوبھی چاہتا ہے...وہ چاہے رمضان کے روزے ہوں، چاہے صاحبِ نصاب کے ذریعے زکوٰۃ کی ادائیگی کے معاملات ہوں، یا پھر عمومی طور پر صدقہ، خیرات کے اعمال صالحہ ہوں منشائے الہی بس یہی ہوتا ہیکہ کلمہ گو مومنین کے بیچ باوجود طبقاتی و سماجی فرق کے رضائے الٰہی کی خاطر ان حکموں پر صد فیصد عمل کرکے ایک متوازن سماج کی تشکیل ہوتی رہے اور ساتھ ہی ساتھ ان فرائض و واجبات کے مرہون منت تزکیہ نفس بھی ہوتا رہے...* *بالکل اسی طرح عیدالاضحٰی پر جانوروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنے تخریبی جذبات کی قربانی، اپنے ذاتی مفادات کی قربانی، اپنی بے جا خواہشات کی قربانی جیسے جذبوں کو قربان کرنے میں ہی تو "اصل قربانی" کا درس چھپا ہوا ہے ... اللہ کی ذات ہر حاجت سے پاک ہے "اللہ تعالٰی کے پاس نہ اُن جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ اُن کا خون بلکہ اُس کے پاس تو تمہارا تقوی پہنچتا ہے."( سورہ حج 37) ان تمام قولی وعملی عبادات کے ذریعے اللہ غفورالرحیم بس یہی چاہتاہیکہ کسی نہ کسی طرح اسکے بندوں میں خشیت الٰہی اور تقوی پیدا ہوجائے... ہمارا شہر مالیگاؤں یوں تو مسلم اکثریتی شہر ہے.. سینکڑوں کی تعداد میں یہاں مساجد و مدارس ہیں. علوم دینیہ کی شناخت رکھنے والے ادارے اور سینکڑوں کی تعداد میں اردو تہذیب کی پروردہ اسکولیں اور کالیجیس ہیں یہاں ہر تہوار نہایت جوش و خروش سےاور آپسی میل ملاپ سے منایا جاتا ہے جسکے چرچے اطراف کے شہروں میں بھی سنائی دیتے رہتے ہیں..دیکھا جائے تویہاں کی شہری اکثریت مذہبی اعتبار سے بڑی بیدار ہے مگر اسی" بیدار طبقے" میں عیدالاضحٰی کے دنوں میں کچھ ایسی غلطیاں اور کمیاں جڑ پکڑ چکی ہیں جنکا احساس یا اصلاح یہ طبقہ بہت سی مصلحتوں کے تحت کرنا نہیں چاہتا...* *عیدالاضحٰی کے ان ایام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اطاعت خداوندی کا درس ہے..منشائے الہی کی تکمیلیت کے لیے عزیز از جان بیوی اور بچے سے جدائی کا سبق ہے.. مرد مومن کی اللہ کی تابعداری میں اختیار کیے جانے والی برداشت کی، تعاون کی، نام و نمود سے پرے اس نگاہ کی ضرورت ہے کہ جسکی وجہ سے مرد مومن کی تقدیریں بدل سکیں..اسی تناظر میں آئیے ہم اپنے شہر کا ایک سرسری جائزہ لیں کہ رب کو مقصودخالص نیتوں کے استحکام کے لیے قربانی کے ان دنوں ہماری کیا کارکردگیاں ہونا چاہیے اور ہم انجانے میں کیا کررہے ہوتے ہیں -*
*1)- بیشک قربانی کے ان دنوں اللہ کی راہ میں خوبصورت و صحت مند جانور قربان کرنا افضل ہے..ایسے جانور نسبتاً مہنگے ہوتے ہیں صاحب حیثیت افرادنیکی میں سبقت لے جانے کی غرض سے مہنگے ترین جانور تو خرید لیتے ہیں لیکن وہ اکثر غرور و شکر کے بیچ کے اس نازک اور پاکیزہ جذبے کی تمیز بالکل بھی نہیں رکھ پاتے کہ زبان پر تو شکر کے کلمات ہوتے ہیں لیکن پڑوسیوں، دوست و اقارب میں ایسے مہنگے جانور کی نمائش کے وقت گھمنڈ اور تکبر سے بھرے اُنکے اطوار کچھ اور ہی نظر آتے ہیں.*
*2)- شہر میں بہت سے گھرانے قربانی کے جانوروں کو اپنے کارخانوں وغیرہ کی کشادہ جگہوں پر باندھ رکھتے ہیں لیکن اکثریت ان جانوروں کو اپنے گھر کے پاس ہی باندھتے ہیں تاکہ جانوروں کی دیکھ ریکھ، اُن کا چارا پانی، صاف صفائی وغیرہ بہتر سے بہتر ہوسکے ان جانوروں کی وجہ سے ان دنوں شہر کی گلیاں مزید تنگ ہوجاتی ہیں آمدورفت و ٹریفک کے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں گھروں کی چوڑائی کم ہونے سے جانور کے فضلے وغیرہ پڑوسی کے گھر کے سامنے بھی پڑتے رہتے ہیں جسکی وجہ سے پڑوسیوں کی ناگواری اور جھگڑے وغیرہ کی عام باتیں ہوتی رہتی ہیں ان مختصر سے چند دنوں میں شہر کی گلیوں کی تنگی کو، پڑوسی کے جانور کی پریشانیوں کو ہم اگر نہایت صبر، برداشت و تحمل سے اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرلیتے ہیں اور اپنے پڑوسی کے قربانی کے جانور کی "عارضی "پریشانیوں پر بجائے ناگواری ظاہر کرنے کے ایک "پُرخلوص مسکراہٹ" سے اپنی" کشادہ دلی" کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یقین جانیے قربانی کے ان دنوں ہم بھی اپنی اس کشادہ دلی کی وجہ سے برداشت کے "احسن برتاؤ" کی وجہ سے اللہ کے نزدیک نیکیوں کے حقدار بن بیٹھیں گے-*
*3) - قرابت داروں میں صاحبِ نصاب کے خون کے اُن رشتوں کی جو مسکین و ضرورت مند ہیں اُنکی خبر گیری کی بہت اہمیت ہے- لیکن قربانی کے جانور کے گوشت کی تقسیم کے وقت یہ دیکھنے میں آتا رہا ہیکہ اکثر" فرمانبردار شوہر "قربانی کے گوشت کی اپنی بیویوں کے ذریعے غیر منصفانہ تقسیم پر چپی سادھے رہتے ہیں وہ بیویاں شوہر کی طرف کے مستحق رشتہ داروں کو زیادہ تر نظر انداز کرکے اپنے مائیکے کے مستحق رشتہ داروں کو ترجیح دیتی ہیں بیشک قربانی کے گوشت پر مسکینوں کا حق ہے وہ چاہے شوہر کی طرف کے رشتہ دار ہوں یا بیوی کی طرف کے لیکن سماج نے بکثرت ہمیشہ یہی غیر منصفانہ تقسیم دیکھی ہے.. ویسے بھی کسی اپنے کی مدد کرنے کے نام پر اکثر شوہروں کوبھی خود کے مستحق رشتہ دار نظر نہیں آتے اُنکی مدد، تعاون اور نظر عنایات تو ہمیشہ سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ ہوتی رہتی ہیں... سماج کا یہ دو رُخہ پن بہت سارے "دیندارکہلاے جانے والے گھرانوں" میں بھی پایا جاتا ہے -*
*4) - ہمارےجمہوری ملک میں قوانین کی پاسداری ضروری ہے کارپوریشن کی طرف سے بنائے گئے سلاٹر ہاوس میں ہی جانوروں(بھینس بکرے) کو ذبح کریں پانی کی کثرت، چہار دیواری میں عزت کے ساتھ ذبیحہ کرنے سے قربانی سے متعلق تمام معاملات اچانک آ پڑنے والی اُلجھنوں سے آزاد ہوتے ہیں نیز برادرانِ وطن کے جذبات کا بھی خیال رکھنا آسان ہوجاتا ہے*
- *5) - اسلام طہارت و پاکیزگی کا مذہب ہے وضو اور غسل کی قسموں کا دیگر مذاہب میں تو تصوربھی نہیں ہے یہی طہارت و صفائی قربانی کے ان دنوں ہم سے چھوٹتے جاتے ہیں - قربانی کے ان دنوں شہرکی گلیاں، نکڑ، گٹریں خون، فضلے اور فاضل چاروں کی گندگی و نجاست سے اَٹی پڑی ہوتی ہیں مسلم کارپوریٹرس کی اکثریت والی کارپوریشن کی تو ایک بڑی ذمہ داری ہیکہ اس اہم تہوار کے مَد میں صاف صفائی و دیگر انتظامات کے نام پر لاکھوں روپے شہریان کی سہولت کے لیے خرچ کرے اور وہ کرتے بھی ہیں وہیں ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے یہ ہمارا بھی مذہبی، اخلاقی و سماجی فرض بنتا ہیکہ ہم عید الاضحٰی کے اس موقعے پر نہ صرف جانوروں کو اللہ کے لیے قربان کریں بلکہ اپنی انا، اپنی نخوت پسندی، اپنے غیر منصفانہ طرز عمل، اپنی سستی شہرت کی چاہ وغیرہ کو اپنے ضمیر کے ہاتھوں دفن کرکے اپنے بھائیوں اور اولادوں کے ذریعے گوشت کی تقسیم کو نہ صرف منصفانہ بنائیں بلکہ ان دنوں بذات خود اپنے اہلِ خانہ کے ذریعے اپنے اپنے گھر کے سامنے کے حصوں کو اپنے رہائشی اطراف کوصاف صفائی کے ذریعے خوب پاک و صاف رکھیں - تاکہ یہ تہوار نجاست سے دور، صحت مند ماحول میں تزکیہ نفس کی روحانی خوشیوں میں مسرور ہوکر حلال و طیب لذیذ پکوانوں کے ساتھ منایا جاسکے-*
*خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل*
*دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں*

0 تبصرے