صدیق التدریس ‏انصاری رقیہ پروین صاحبہ

"صَدیق التدریس،رقیہ پروین صاحبہ"
ایک تعلیمی و ادبی تقریب میں ناظمِ جلسہ نے ایک مقررہ کی بہت ہی  دلچسپ اور بامعنی تقریر سُننے کے بعد ایک شعر کہا
دِل کے تاروں پر اثر ہونے لگاالفاظ کا چل کے دیکھیں کررہا ہے پُر اثر تقریر کون

https://www.youtube.com/c/RabbaniT
heScholar

 ناظمِ تقریب کا منفرد انداز شعر گوئی ، مقررہ کا دلچسپ انداز خطابت نے سماعتوں کی فضا کو خواب خواب کردیا اور شعر اپنی معنویت کے ساتھ حافظے میں محفوظ ہوگیا _آج 31،مئی کی صبح یادوں کے جھروکے سے اسکول کے درودیوار کو، تعلیم و تدریس کے گھنٹے کو، اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں کو، نصابی و ہم نصابی مقابلوں کو، ثقافتی تقریبات کو، مختلف النوع موقع جاتی سرگرمیوں کو تصور کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تو ذہن کا اسکرین روشن ہوتا گیا اور اسی روشنی میں 'صریرِ خامہ' قرطاسِ ابیض پر "صَدیق التدریس، رقیہ پروین صاحبہ" کی تدریسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے حرف و لفظ کے موتی چنتا گیا _
مُشک بو ہوگئے اقبال، ہوا برگ و شجر
دشت میں بھیج دی سوغاتِ معطر کس نے
*راوی رقیہ پروین میم صاحبہ!!! 
1963میں شہر کے قدیم محلہ اسلام پورہ کے معروف تعلیمی خانوادہ محمد صدیق (گارڈ) کے یہاں آنکھیں کھولی _والدین نیک سیرت،خوش طبع، خوش خلق و خوش مزاج رہے_ علم کی اہمیت و افادیت سے خوب واقف تھے اس لیے کبھی بھی صنفی فرق کو روا نہیں رکھا، موقع کی مناسبت سے سبھی لڑکے اور لڑکیوں کی تحصیل علم کے لیے مناسب حوصلہ افزائی فرماتے رہے، ہدایت و رہنمائی کی ذمہ داری ادا کرتے رہے، ان ہی کی دعاؤں سے بفضلِ ربّی میں نے محلہ اسلام پورہ کی میونسپل پرائمری اسکول سے ساتویں جماعت کا امتحان نمایاں نمبروں سے کامیاب کیا اور اسی دوران پڑوس میں جاری شبینہ مکتب سے قاعدہ بغدادی، یسرناالقرآن اور قرآن پاک کی تعلیم حدر سے مکمل کی _ قدرت نے ذہانت عطا کی _ سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت تیز رہی _کچھ کرنے اور پانے کا ہمیشہ جنون رہا _نمایاں کامیابی و کارکردگی کا خواب دیکھتی اور اُس کی تعبیر کے لیے کوشش کرتی رہی _ اساتذہ کی رہنمائی، والدین کی تربیت، بھائی بہنوں کی عزت افزائی، خویش و اقارب کی حوصلہ افزائی نے اعلیٰ تعلیم کی طرف متوجہ کیا _ تعلیم نسواں کا مرکز خاص 'جے اے ٹی گرلز ہائی اسکول' سے میٹرک کا امتحان نمایاں نمبرات سے کامیاب کیا بعدازاں سٹی کالج مالیگاؤں سے گریجویشن اور ایم ایس جی کالج کیمپ سے پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی _دل میں امنگ، شوق جزبہ اور لگن تھی ماسٹریٹ کی ڈگری نے نئ سمت پرواز دی، سخن ور (اقبال نزیر) کے لفظوں میں کہوں تو
طائرانِ حرص کو حاصل سکونِ دل کہاں
زندگی بھر ہیں بھٹکتے آشیاں ہوتے ہوئے
اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ہمیشہ متحرک دیکھا، ان کے طرزِ تدریس نے، انداز گفتگو نے، طریقِ تربیت نے مجھے "معلمہ" بننے پر اُکسایا اور میں تحصیل علم کے لیے وطن مالوف سے اورنگ آباد ہجرت کرگئ وہاں کے مشہور آزاد کالج سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور کامیابی کا تمغہ لے کر شہر واپسی کی _
ہم بھی ہیں اقبال اپنے عصر کی چیزِ دِگر
اتفاقاً ہی سمجھ میں آگئے تو آگئے
کے جی سے پی جی تک کا سفر کامیاب و کامران رہا، کبھی اول نمبر کا مقام تو کبھی مثالی طالبہ کا اعزاز تو کبھی بہترین کارکردگی کا انعام ملتا رہا، سلسلہ جاری رہا اور فروری 1995 میں "انجمن معین الطلباء کے زیر انصرام جاری دی مالیگاؤں گرلز ہائی اسکول میں تدریسی خدمات کا موقع ملا جسے بحسن خوبی انجام دینے کی شعوری طور سے کوشش کرتی رہی _اپنے تدریسی فریضے کو کماحقہ ادا کرنے کی سعی و جہد کرتی رہی _درس و تدریس میں کامیابی و ناکامی کی سند طلبہ ہوتے ہیں، الحمدللہ میری زیرِ تربیت طالبات نے آج سماج و معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کررکھا ہے_ یہی میری کامیاب تدریس کا اصل انعام ہے _ دورانِ تدریس نصاب کی مکمل تفہیم و تشریح میری پیشہ ورانہ زمہ داری، طالبات کی فکری تربیت میرا مزاج ، طالبات کی ہمہ جہت ترقی کے لیے کوشش میرا شوق، تعلیمی تہزیبی و ثقافتی تقریبات میں حصہ داری اور طالبات کی تیاری میرا ذوق رہا ہے _ جب تک معاون معلمہ کی حیثیت رہی ہیڈ ماسٹر اور آفس بیئرر سے مخلصانہ ربط و ضبط رہے ان کے تجربات سے استفادہ کرتی رہی ان کی مشاورت سے نئ راہیں تلاش کرتی رہی کامیابی ملتی رہی اسی دوران اپنا تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا 'یشونت راؤ چوہان اوپن یونیورسٹی ناشک سے "ڈپلومہ ان اسکول مینجمنٹ" کی ڈگری حاصل کی _2017 میں انجمن معین الطلباء کے ہردلعزیز چیئرمین اسحٰق سیٹھ زری والا صاحب، سکریٹری سراج احمد دلار صاحب اور اراکین انجمن نے اعتماد کرتے ہوئے "ہیڈ مسٹریس" کا باوقار عہدہ تفویض کیا، شکر الحمد للہ ثم الحمدللہ میں نے شعوری طور پر اس ذمہ داری کو مکمل کیا اور آج 31 مئی 2021 کو باوقار طریقے سے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہورہی ہوں _
اکتساب علم جتنا ہم نے دنیا سے کیا
جاتے جاتے شکریے کے ساتھ لوٹا گئے بحیثیت طالبہ، معلمہ اور ہیڈ مسٹریس میں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کو احسن ٹائم مینجمنٹ سے مربوط رکھا اس سے معمولات زندگی بالخصوص پیشہ وارانہ امور اور گھریلو زندگی میں کبھی بھی تصادم نا ہوا _ جہاں تدریسی فرائض بہتر طریقے سے انجام پائے وہیں گھریلو اُمور بھی احسن طریقے سے مکمل ہوئے_ الحمدللہ دو بیٹیاں ہیں ڈی ایڈ کے ساتھ گریجویٹ بھی ہیں، ایک بیٹا ہے اور اس نے ڈپلومہ ان فارمیسی کی سند حاصل کی ہے _الحمدللہ گھریلو زندگی بھی خوش حال خوش و خرم گزر رہی ہے _
اُس کی نوازشوں کا سلسلہ دراز ہے
دعا کریں کہ یہ سلسلہ دمِ واپسی تک دراز رہے (آمین)
دوران گفتگو راقم الحروف اور ہم خیال سہیلیوں کے پُر جوش اور آبدیدہ ہونے پر فقیدالمثال، متحرک و فعال ہیڈ مسٹریس ، مالیگاؤں رتن ایوارڈ ، اپنی مٹی سونا ہے ایوارڈ ، ذوہان ڈگنیٹی ایوارڈ، مدھورا تپسوینی ایوارڈ، ایکسیلینٹ ایکٹیو پرنسپل ایوارڈ کو وقار اور معتبریت بخشنے والی ہردلعزیز، مشفق و مہربان رقیہ میم نے ہم جلیسانِ مکتب کو اطمینان کا درس دیتے ہوئے کہا کہ
جب نہ پائیں گے کچھ پتہ میرا
لوگ ڈھونڈیں گے نقش پا میرا
تتلیوں کے حسین آنچل پر
نام خوشبو سے ہے لکھا میرا
بحیثیت معلمہ.... میں نے ہمیشہ اپنی تدریس سے بچوں میں اپنا مقام بنایا ہے درسی کتب کی تدریس کے ساتھ میں نے طالبات کو سماج اور معاشرے کی نزاکتوں کو سمجھایا، کردار کی تعمیر کا سلیقہ سکھایا، آدابِ زندگی اور طرزِ زندگی کا نمونہ بتایا اس کے لیے تحریری و تقریری مقابلوں میں شرکت کے لیے تیاری کروائی، مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کیا، ان کی رہنمائی کے لیے الگ سے وقت فارغ کیا، الحمدللہ سابق طالبات اور موجودہ طالبات کے مقام و منصب، تعلیمی ترقی کا گراف اور اُن کی نجی زندگی کا احوال کامیابی کی نوید سناتا ہے _
تمام تر ہے تجسس بس اس مقام تلک
ہے 
 تشنہ کام کی کوشش حصولِ جام تلک ہے 
صدر معلمہ کے منصب پر چار سال تک براجمان رہی، عہدے سے انصاف میرا وطیرہ رہا، کام کرنا اور کام لینا میری ذمہ داری رہی، معیاری تعلیم میری اولین ترجیح، نظم و ضبط اور ڈسپلن کی برقراری اسکول کی ضرورت، طالبات کی ہمہ جہت ترقی کے لیے تعلیمی تہزیبی و ثقافتی تقریبات نہایت ضروری، معاون اساتذہ کی رہنمائی اور انہیں پرجوش متحرک و فعال رکھنے کے لیے موٹیویٹ کرنا میری ذمہ داری... جس کا مجھے ہر وقت احساس و ادراک رہا اس لیے ہمیشہ اس حدف کو پانے کے لیے کوشاں و سرگرداں رہی،
ہم جیسے دوانے ہی گزر جاتے ہیں اقبال
عشرت گہہ عالم سے نظر اپنی بچا کر
چار سالہ پرنسپل شپ کے دوران مختلف موقع جاتی سرگرمیوں کے لیے (8 مارچ یومِ خواتین، 9 نومبر یومِ اردو، 11 نومبر قومی یومِ تعلیم، 15 اگست جشنِ آزادی ،26 جنوری یومِ جمہوریہ، 1 مئ یومِ مہاراشٹر ،23 جولائی یومِ ترغیب مطالعہ) فنکشن ڈپارٹمنٹ کے اساتذہ کو متحرک کیا، دیگر اسکولوں اور اداروں میں ہونے والے مقابلوں کے لیے کمپیٹیشن ڈپارٹمنٹ کے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی، طالبات کی تیاری میں اساتذہ کے شانہ بشانہ کھڑے رہی اور آپ جانتے ہیں کہ اکثر کامیابی ہمارا مقدر رہی _ گزشتہ سال بھر کورونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ 19 کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیشِ نظر تعلیمی ادارے بند ہیں مگر ہم نے "اسکول بند - تعلیم جاری" اس پروجیکٹ پر کامیابی سے کام کیا _آن لائن طرزِ تدریس کا کامیاب تجربہ کیا، بطور ترغیب اس بات کا تزکرہ ضروری ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد جب حالات سازگار ہوئے تو گھروں گھر پہنچ کر طالبات اور خواتین سرپرستوں سے خصوصی ملاقات کی انہیں تعلیم کی طرف متوجہ کیا اور تعلیمی سلسلہ دراز رکھنے کی تحریک دی، اسی تحریک کا اثر تھا کہ ہماری کچھ طالبات نے اسکول جاری رکھنے کے سلسلے میں زبردست مکالمہ پیش کیا، بے باکی سے اسکول جاری رکھنے کے بارے میں تاثراتی تقریر کی جسے یو ٹیوب چینلز نے نشر کیا _عوام اور تعلیم یافتہ طبقے نے اسے سراہا اور داد و تحسین سے نوازا _
زمانہ کتنی ہی تبلیغِ تیرگی کرلے
ہمیں بتائیں گے مفہومِ روشنی کیا ہے
ہم سب شریکان مکتب کی آئیڈیل رقیہ پروین محمد صدیق صاحبہ کے دولت کدے سے وقتِ رخصت ہم نے تاثرات جاننا چاہا تو محترمہ یوں گویا ہوئیں
طلب بے چین رکھتی ہے ہمیں گھر میں بھی باہر بھی
وہ خود بھی مضطرب رہتی ہے رہ کر دل کے اندر بھی
ہماری ہر رگِ تن میں بسی ہے نکہتِ اخلاص
جہاں پر ہم تو کھل جائیں گے پس منظر میں رہ کر بھی

اثاثہ ہم لُٹا دیتے ہیں علم و فن ہو یا دولت
ہماری پیروی کرتے ہیں دانا بھی قلندر بھی 
نسلِ نو بالخصوص اساتذہ اور طلبہ کے لیے پیغام کی بابت سوال پوچھنے کی جسارت کی تو ہونٹوں پہ تبسم سجائے، مکمل عزم و یقین کے ساتھ خلوص و محبت کا دریا رواں رکھتے ہوئے فرمایا 
ملا ہے اِذن ہم کو ظرفِ بحرِ بیکراں رکھنا 
زمیں پہ رہ کے ہر لمحہ مزاجِ آسماں رکھنا
جہاں کے حق میں اپنی ذات کو راحت رساں رکھنا
ہمیشہ ہر کسی کے سر پہ دستِ مہرباں رکھنا
وقتِ رخصت اجازت اور 
زادِ راہ طلب کی تو شفقت و محبت سے ہم سب کے سروں پر ہاتھ رکھ کر، خلوص و محبت کی روانی میں "رگِ آفتاب" اس شعری مجموعے سے شاعر اقبال نزیر صاحب کے یہ اشعار تحفتاً زاد راہ کے طور پر عنایت کردیے
نظر رکھنی ہمیں ہے اوجِ ہستی کے مناروں پر
پہنچنا ہے زمیں کی پستیوں سے آسمانوں پر
اجالا جن کے ہر اک لفظ سے پھیلے اخوت کا
ہمیشہ ناز کرتا ہے جہاں ایسے مقالوں پر
چشمِ نم کے ساتھ یادوں کی قندیل لیے ہم "فینس کلب آف رقیہ میم" اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے........ اور سوچ رہے ہیں کہ
نہیں ہے دولتِ دنیا ہمارے پاس پر اقبال
کوئی دولت بشکل حرف اپنے نام پر تو ہے
پیشکش :فینس کلب آف رقیہ پروین میم
دی مالیگاؤں گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے