گذشتہ سترہ سالوں سے تسلسل اور کامیابی سے جاری ان ماہانہ ادبی نشستوں سے شہر کی ادبی فضاء قائم ہے اور اک جہاں فیضیاب ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار عثمان غنی اسکس صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا- جو کہ مورخہ۳۰ جنوری بروز سنیچر کو اے ٹی ٹی کیمپس، مالیگاؤں کے مرکزی ہال میں منعقد تھی۔ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد اپنی روایتی آن بان اور شان سے نشستوں کے انعقاد پر آپ نے صدر و اراکین ادارہ نثری ادب کو مبارکباد پیش کی- اس نشست میں کل پانچ تخلیقات پیش کی گئیں۔ عبدالمجید ماسٹر نے(کہانی) سرکس کا دھوکہ، ڈاکٹر اقبال برکی نے (کہانی)دادا جی کا صندوق، عمران جمیل نے(کہانی) ندیم کی عید، محمد مصطفی برکتی نے(مضمون) فقیر ایکتا یونین اور صدر نشست عثمان غنی اسکس نے(انشائیہ) کرونیات، پیش کر کے محفل کو لالہ زار کردیا۔ تمام ہی تخلیقات پر تنقید و تبصرے عبدالمجید ماسٹر، ڈاکٹر اقبال برکی، عمران جمیل، نور الدین نور، طاہر انجم صدیقی، آصف سبحانی، الطاف علی دلکش، ماجد اختر سر، رضوان ربانی و دیگر نے کیے۔ جبکہ افضال انصاری، سادق اسد، محمد حسین لالو، مسعود رمضان پینٹر، انصاری نورالامین، حنیف اشرفی، عبدالرحمن سر، نعیم ملن، شبیر امیتابھ و دیگر صاحبان از اول تا آخر موجود رہے۔ نشست کا آغاز حافظ محمد مدثر ربانی کی تلاوت قران سے ہوا۔ نظامت رضوان ربانی جبکہ رسم شکریہ ڈاکٹر اقبال برکی سر نے ادا کیے۔ لاک ڈاؤن کے تعطل کے بعد ماہانہ ادبی نشست انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوئی جسے ربانی دی اسکالر یوٹیوب چینل پر بھی دیکھا جاسکتا ہے- اگلی نشست مورخہ ۲۱ فروری کو ہوگی- ش ن الف رضوان ربانی، پروپیگنڈہ سکریٹری ادارہ نثری ادب، مالیگاؤں

1 تبصرے
Nice
جواب دیںحذف کریں