Har Shakhs Dewana Tera ‎ہر ‏شخص دیوانہ ترا۔ ‏ ۔ ‏۔ ‏۔ ‏۔ ‏

*ہر شخص دیوانہ ترا ۔۔۔*

نام شکیل احمد جمیل حسن، نکلتا ہوا قد، گندمی رنگت، عینک کے شیشوں کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی ذہین آنکھیں، سادہ لیکن انتہائی نفیس لباس، سیاہ اور سفید بالوں کا خوبصورت امتزاج، چال انتہائی منکسرانہ لیکن پر وقار یاروں کے یار، دوستی دیر تک اور دور تک نبھانے کی نمایاں خوبی ۔
ادیب نہیں لیکن ادیب شناس، مولانا ابوالکلام آزاد، مشتاق احمد یوسفی،ابن انشاء، پطرس بخاری، مختار مسعود، شفیق الرحمان، مستنصر حسین تارڑ، عبداللہ حسین، جیسے اور نجانے کتنے چوٹی کے ادباء سے میرا تعارف شکیل بھیا کے ذریعے ہی ہوا اور مطالعے کی ایک سمت کا تعین ہوا ۔
افسانوں میں منشاء یاد، کرشن چندر، پریم چند منٹو و دیگر بڑے افسانہ نگاروں کے بہترین افسانوں کا تعارف بھی دوران گفتگو شکیل بھیا کے ذریعے حاصل ہوا ۔
شاعر نہیں لیکن شاعری سے شغف، دلچسپی، مطالعہ اور اس کی ترسیل کے حوالے سے شہر مالیگاؤں میں شکیل بھیا کا ثانی ڈھونڈنا ناممکن اگر نہ بھی ہو تو مشکل ضرور ہوگا ۔
کلاسیکی شاعری سے لیکر جدید اور عصر حاضر کے شعراء تک ان کا مطالعہ پھیلا ہوا ہے ۔بلاشبہ ہزارہا اشعار، زبانی یاد ہیں جنہیں دوران گفتگو برمحل انہیں کوٹ کرتے رہتے ہیں ۔
زبان کی نزاکت، الفاظ کی صحت اور تلفظ پر بھی بھیا کی گہری نظر ہوتی ہے ۔
شکیل بھیا کے موبائل میں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، فرہنگ آصفیہ، نور اللغات، فیروز اللغات جیسی کئی ڈکشنریز موجود ہیں نہ صرف موجود بلکہ ان کا تواتر کے ساتھ استعمال بھی ہوتے رہتا ہے ۔
ادھر ہم لوگوں کی زبان سے ایک لفظ اگر غلط تلفظ کے ساتھ ادا ہوا ادھر بھیا صحیح تلفظ مع حوالہ جات کے ہمارے روبرو رکھ دیتے ہیں ۔تربیت کا یہ انداز ہم نے شہر کے اساتذہ کے یہاں دیکھا اور اس کے بعد شکیل بھیا کے پاس لفظوں کی حرمت نظر آئی ۔
غالب کے اشعار کی تشریح پر اکثر و بیشتر گرما گرم گفتگو چھڑ جاتی لیکن وہاں بھی شکیل بھیا کا پلڑا حوالوں کے اعتبار سے ہمیشہ بھاری نظر آیا ۔
گلوکار نہیں لیکن موسیقی کا بھی ایسا نفیس ذوق شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے ۔عموماً ہوتا یہ ہے کہ کسی کو کلاسیکی موسیقی پسند ہے، کوئی غزل گائیکی کا شوقین تو کوئی پرانے فلمی گیتوں کا رسیا، کوئی قوالی کا پرستار تو کوئی نئے گیتوں کا دیوانہ ۔لیکن یہ سارا کچھ اگر میں نے کسی میں یکجا دیکھا تو وہ شخصیت بھی شکیل بھیا کی ہی ہے ۔
استاد نزاکت علی، سلامت علی، بیگم اختر، استاد مہدی حسن، استاد بڑے غلام علی، غلام علی، صابری برادرس، استاد نصرت فتح علی خان، مناڈے، ہیمنت کمار، مکیش، محمد رفیع، لتا منگیشکر، سے ہوتے ہوئے اے آر رحمان اور راحت فتح علی تک کی گائیکی کو سننا اور ان پر فنی تبصرے کرنا یہ خوبی میں نے شکیل بھیا کے علاوہ کسی اور میں نہیں دیکھی ۔
فلموں اور ان کے آرٹسٹ کے نام، عمر شریف کے ڈرامے ان سب پر شکیل بھیا بلاشبہ بے تکان گھنٹوں بول سکتے ہیں ۔
ڈراموں کی فنی باریکیوں پر بھی بھیا کی گہری نظر رہتی ہے اور جب بھی ڈراموں پر گفتگو چلی ہے آپ سے کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے ۔
آپ خطاط نہیں لیکن عالمی شہرت یافتہ خطاطوں سے لیکر مقامی خطاط کے فن پاروں پر فنی گفتگو بہترین حوالہ جات سے میں نے آپ کو کرتے دیکھا ہے ۔
اپنی لائبریری کے لیے نہ صرف ادبی لحاظ سے بلکہ کاغذ، چھپائی اور بائنڈنگ کے لحاظ سے بھی آپ نے دگنا تین گنا خرچ کر کے پاکستانی ایڈیشن منگوائے ہیں ۔
مشہور ڈائجسٹ سرگزشت جس کے مطالعے کا مجھے بے حد شوق رہا اس کے بارے میں علم ہوا کے شکیل بھیا کے پاس اس پہلے شمارے سے لیکر تو جو بھی تازہ آخری شمارہ ہے وہ سارے موجود ہیں ۔یہاں تک کہ سرگزشت کے جو پبلشر ہیں آج ان کے پاس بھی سارے شمارے موجود نہیں ہیں ۔
ڈاک ٹکٹ اور خطوط وغیرہ کا تذکرہ تو عمران جمیل سر نے احسن طریقے سے کر دیا ہے ۔
وقت کی پابندی کی مثال تو میں یوں دوں گا کہ اگر میں نے شکیل بھیا کو کال کر کے کہہ دیا کہ بھیا پانچ منٹ میں آپ کے گھر پہنچ رہا تو بھیا ہمیشہ گھر کے باہر ہی انتظار کرتے ہوئے ملے ۔
جیسا کہ عمران جمیل سر نے کہا کہ بھیا کم آمیز ہیں لیکن یاروں کی محفل میں ہر موضوع پر بھر پور گفتگو کے ساتھ شامل ہوتے ہیں اور ان کی علمی اور مدلل گفتگو سے ہر کسی کو کچھ نیا سیکھنے کے لیے ملتا ہے ۔
اتنا کچھ لکھنے کے بعد بھی یوں لگ رہا ہے کہ کچھ لکھا ہی نہیں ۔طوالت کے خوف سے اپنی گفتگو یہیں پر سمیٹتا ہوں ۔پھر کسی موقع سے بھیا کی دوسری خوبیوں پر ان شاء اللہ سیر حاصل گفتگو ہوگی ۔

اخیر میں شکیل بھیا کی اعلیٰ ظرفی کا اعتراف نہ کرنا یقیناً ناسپاسی ہوگی ۔مجھ سے ہونے والی گستاخیوں کے باوجود بھیا نے نہ صرف درگزر سے کام لیا بلکہ اپنے سے اور قریب کر لیا ۔
شکریہ شکیل بھیا فار ایوری تھنگ ۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ آپ کو عافیت والی، سلامتی والی زندگی عطاء فرمائے، دلوں کے خلوص اور دوستی اور احترام کے اس رشتے کو ساری زندگی قائم رکھے ۔
آمین یا رب العالمین
دعاؤں کا طالب :افضال انصاری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے