نشہ آور اشیاء کا استعمال : پابندی اور حل
*------------------------------------------*
شراب نوشی، نشہ آور گولی و گٹکا خوری کے تناظر میں چند گزارشات
*<><><><><><><><><><><><><><><><>*
تحریر :- محمد مدثر حسین رضوی مالیگ
صدر اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں
📲 9021809898
کینسر اور گردہ فیل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے جہاں گٹکا خوری کینسر کا سبب بن رہی ہے وہیں شراب نوشی نشہ آور گولی گردہ فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے اس لئے ان نشہ آور اشیاء کے فروخت پر مکمل پابندی عائد ہونا چاہیے لیکن کیا سچ میں دوکانوں اور فیکٹریوں کے بند کرنے سے کچھ ہوگا یا یوں ہی یہ بھی تسلی کرنے والا اقدام کہلائے گا. اگر واقعی بند کردینے اور پابندی لگانے سے کچھ فائدہ ہوا ہو تو کوئی بتائے. ہم نے دیکھا ہے، ہمارا باضابطہ مشاہدہ ہے کہ پہلے کی بہ نسبت اس کا استعمال بڑھ گیا ہے. اس کی خرید و فروخت میں مسلسل تیزی آتی گئی اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان مذموم نشے والی عادتوں کو چھوڑنے کا بندوبست کریں. جن وجوہات کی بنا پر لوگ بری عادتیں پالتے ہیں ان اسباب و وجوہات کی تلاش کے بعد ان پر قدغن لگانا بہت ضروری ہے. شراب نوشی نشہ آور گولی اور گٹکا خوری کرنے والے اپنی جان پر خود ظلم کریں اور بڑی بڑی بیماریوں میں مبتلا ہوں نقصانات کو اٹھانے اور جان سے جانے کے وقت اپنے نصیب اور قسمت کو قصور وار بلکہ یہاں تک کہ پاک پرور دگار کے حضور غلط الفاظ کا استعمال کریں یہ کتنی کم نصیبی اور محرومی کی بات ہے.
👈 نئے لوگوں کو ان بری عادتوں سے بچائیں :---
کم عمر کے بچے ہوں یا بڑی عمر کے افراد عادت کے بنتے دیر نہیں لگتی. سب سے پہلے تو ہمیں یہ چاہیے کہ ہمارے بچے یا بڑی عمر کے سمجھدار ہوں ان کو کبھی ان نشیلی اشیاء کو خریدنے کے لئے نہ بھیجیں. وقتاً فوقتاً نشہ آور اشیاء کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر تبصرہ کرتے رہیں. اس کے استعمال سے بچنے کی ہدایت مسلسل دیتے رہیں، نشہ کرنے والے دوست ہوں یا رشتے دار ہوں، ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے بچے ہوں یا بھائی ہوں، ان سے تعلق نہ رکھیں ان سے دور رہیں جب تک کہ وہ اپنی ان عادتوں کی اصلاح نہ کر لیں.
👈 نشے کی لعنت کے شکار افراد اور تدارک :---
اب جبکہ وہ لوگ جو ان نشیلی اشیاء (شراب، کتا گولی، گٹکا و دیگر ) کا استعمال کرتے ہیں اور کوشش کے باوجود اسے چھوڑ نہیں پاتے ان کے لئے مستقل راہنمائی اور علاج کروانا وقتاً فوقتاً کوئی کیمپ کوئی جلسہ یا نماز جمعہ کے خطبوں میں ان عادتوں کو چھوڑنے کے لئے پراثر نصیحت کروائی جائے، ہوسکے تو ان نشے والی اشیاء کے استعمال سے ہونے والی بیماریوں اور جسم کے خراب ہونے والے اعضاء کا فوٹو تفصیل کے ساتھ بتایا جائے، جن اسپتالوں میں علاج کیا جاتا ہے وہاں کا دورہ کروایا جائے، ان مریضوں سے ملاقات کی جائے، یقیناً یہ سب طریقے نشے کی عادت کو چھوڑنے میں مدد گار ثابت ہونگے.
👈 ایمانداری سے مکمل پابندی یا ذیادہ ٹیکس :---
حکومت کی جانب سے جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ صرف کاغذ کی حد تک محسوس ہوتی ہے، عملی طور پر سب بالکل کھلے عام خرید و فروخت ہوتا ہے اس لئے ایمانداری سے پابندی عائد کی جانی چاہیے، عام دوکانوں کے ساتھ ساتھ فیکٹریوں کو سیل کردیا جائے تو بہت اچھی بات ہوگی، ضروری تو یہی ہے کہ پابندی ہر قیمت پر لگنی چاہیے، پھر بھی پابندی لگانے میں دقت ہو تو ان نشیلی اشیاء پر بھاری بھرکم ٹیکس عائد کر دیا جائے، جو عام عادمی کے قوتِ خرید سے باہر ہو، جبکہ ذیادہ ٹیکس سے جو آمدنی ہوگی اسے ان مریضوں کے علاج میں خرچ کیا جائے جو ان نشیلی اشیاء کے استعمال سے بیماریوں میں مبتلا ہیں، چونکہ ذیادہ تر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ جو محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں وہی ذیادہ تر نشیلی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں، پھر ان کے پاس اس قدر مہنگے علاج کے لئے پیسے نہیں رہتے.
اخیر میں والدین سے میری گزارش ہے کہ اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دیں ان کی نگرانی کریں تاکہ کوئی بری عادت اور نشے کی لت میں ملوث نہ ہوجائیں، اساتذہ طلباء کو نصیحت کریں نشے والی چیزوں کے استعمال سے متعلق ڈر خوف پیدا کریں بیماریوں کا حوالہ دیں، واعظین مقررین اصلاحی بیانات سے اس کے متعلق بیداری پیدا کریں، سب اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے سے نشے کی بری لعنت کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا.....

0 تبصرے