آج 4 مئی دنیا کا تاریخی دن هے....آج کے دن شیر میسور ٹیپو سلطان رحمۃاللہ علیہ ولد حیدر علی انگریزوں سے ہندوستان کی آزادی کے لئے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی ......شیر میسور کو خراج تحسین....💐💐💐
4مئی 1799 ء شیر میسور ٹیپو سلطان کی شہادت کا دن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیون ہلی (میسور) کی وادیوں میں مرد مجاہد مردِ حق ٹیپو سلطان نے ۲۰ نومبر ۱۷۵۰ء میں جنم لیا۔ والی ٔ میسور حیدر علی کے اس سپوت کی آغوش محبت پلنے والے اس بہادر انسان نے تاریخ کے اورق پر اپنے لافانی اور انمٹ نقوش ثبت کئے ۔انہوں نے اس مایوس کن فضا میں آنکھیں کھولیں جب وطن عزیز پر انگریزوں کا راج تاج تھا، گوروں کی ریشہ دونیاں اپنی جوبن پر تھیں اورسر زمین وطن پر ان کی پیداکردہ تاریکیوں اور سیہ بختیوں کے بادل منڈلا رہے تھے۔
یہ ناگفتہ بہ حالات دیکھ کر نہ حیدر علی کو قرار آیا اور نہ ان کے لائق وفائق فرزند ارجمند کو۔ ٹیپو سلطان ابھی عنفوان ِ شباب میں ہی تھے کہ ان کی شمشیر آزادیٔ وطن کی خاطر اس وقت بے نیام ہوئی جب ہند کے طول عرض میں انگریزی استبداد کا شکنجہ سازشوں، ضمیروں کی خرید وفروخت اور ظلم وتشدد کی بھٹیاں سلگاکرمضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا تھا ۔ اس نازک موقع پر قدرت نے مادرِ وطن کے دفاع ، اس کی آزادی او ر اس کی سر بلندی کی فیصلہ کن جنگ لڑنے کا عزم اب ٹیپو سلطان کے دل میں منتقل کیا اور وہ ا پنے والد بزرگوار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انگریزوں کے خلاف سینہ سپر ہوئے۔
بد قسمتی سے اس ملک کے عیاش و ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی بزدلی اور ان کے نفاق وکم ہمتی کی بدولت برطانوی ملوکیت کا سیلاب ایک بڑے حصے کو پامال کرکے اپنے خونی پنجے میں جکڑ چکا تھا۔ ٹیپو سلطان سے یہ دیکھا نہ گیا اور ان کی حالت بقول
’’سحر کا کام ملا اس کو مگر شام کے وقت‘‘
جیسی ہوگئی۔ ا نہوں نے بغیر کسی چوں وچرا اپنی کمر ہمت باندھ لی اور انگریز سامراج کے خلاف جنگ آزماہوکر ایک ایسی مایہ ناز تاریخ اپنے خون ِ جگر سے رقم کی کہ جس کے ٹکرکی کوئی اور مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی ۔
یہ کوئی مبالغہ آمیز دعویٰ نہیں کہ ہندوستان کی تاریخ ' سلطان ٹیپو سے زیادہ بلند ہمت، بالغ نظر، مذہب و وطن کے فدائی اور غیر ملکی اقتدار کے مخالف بادشاہ اور لیڈر سے آشنا نہیں۔ حق یہ ہے کہ خود انگریز بھی اپنے لئے ٹیپو سلطان کو سب سے زیادہ مہیب اور قابل نفریں شخصیت سمجھتے تھے۔ ایک عرصہ تک ٹیپو نے ان کو ناکوں چنے چبوائے تو انگریز نے بالآخر سازشیں رچارچاکر میر جعفر اور میر صادق جیسے غداروں کو خریدا اور ٹیپو سلطان کو حیات جاودانی کی نیند سلادیا ۔ یہ انگریز کے خوف ، بزدلی اور بے حیائی کا بین ثبوت تھا کہ بہت عرصہ تک وہ اپنے دل کی آگ بجھانے کے لئے آزادی و جہاد کے اس ہیرو کی تذلیل و توہین کے لئے اپنے کتوں کو ان کے نام نامی سے پکارتے تھے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سلطان ٹیپو کی شہادت نے ہندوستان کی تاریخ کا رُخ بدل دیا اور ا س وسیع وعریض ملک کو برطانوی اقتدار کی گود میں لاڈالا ۔ اس کے منفی اثرات ہندوستان پر عمومی طور اور ملت اسلامیہ ہند پر خصوصی طور نہایت ہی عمیق اور دوررس تھے۔ تاریخ کا اگر صحیح مطالعہ کیا جائے تو یہ باعث رحمت ہدایت کا سبب ہے اور اسے مسنح کرکے پیش کیاجائے تو غلط نتائج اخذ ہوتے ہیں جو قوموں کے لئے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔
مشہور ومعروف تاریخ دان پروفیسر ولی شیخ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ پروسیامیں ہیگل اور رینک کے ماتحت تاریخ نے منقسم اور منتشر ملک کو ایک کر دیا اور ہندوستان میں تاریخ کے غلط استعمال نے متحدہ ملک کو دوٹکڑوں میں کاٹ کر رکھ دیا۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ میں ٹیپو سلطان ایک غیر متنازعہ ہیرو کے طور سر فہر ست درج ہے اور ان کااسم گرامی ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ شمع آزادی کے اس پروانے نے جس انقلابی اور والہانہ انداز میں زندگی کے اعلیٰ مقاصد کے لئے جان تک قربان کرنے کی روایت قائم کی ،اس سے ان کے تئیںدلوں میں ہمیشہ عزت واحترام کے چراغ روشن ہوتے رہیں گے۔ سری رنگا پٹنم اور بالا کوٹ جنگ آزادی میں وہ منزلیں ہیں جہاں مجاہدین نے سر پر کفن باندھ کر برطانوی استعمار کے خلاف جنگ کی تھی۔ ان مردانِ حُرکے کارنامے آج بھی چشم تصور سے دیکھے جا سسکتے سسکتے ہیں۔ تڑپتی ہوئی لاشیں، بہتا ہوا لہو، دمکتے ہوئے چہرے، دہکتی ہوئی روح، ٹیپو سلطان نے جس طرح سری رنگا پٹنم کے میدان میں جان، جان آفریں کے سپرد کی اس نے مردہ دلوں میں خون زندگی دوڑا دیا پھر سیّد احمد شہیدؒ نے حمیت دینی سے اس سرفروشی کے جذبہ کو مزید تقویت پہونچائی اور جہاد کا ایسا غلغلہ بلند کیا کہ فضائیں تک اس کی صداؤں سے گونج اٹھیں اور جب جنگ ویلور کے بعد ٹیپو سلطان کے خاندان کا قافلہ شہر بدر ہوکر کلکتہ پہونچا تو سیّد احمد شہید ؒکے دست حق پرست پر بیعت کی اور اسلامی ہند کی عظیم تحریک جہاد میں شامل ہو گئے۔ اس طرح سری
رنگاپٹنم اور بالا کوٹ کی راہیں مل گئیں
نقل و چسپاں

*اپنی دکان، فرم، کاروبار اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے اور اسے عوام الناس تک احسن طریقے سے پہنچانے کے لئے ایک مرتبہ ضرور آزمائیں-*
*ویڈیو ایڈ صرف 1000/- Only*
👈🏻واٹس ایپ
👈🏻فیس بک
👈🏻انسٹا گرام
👈🏻فیس بک پیج
👈🏻یوٹیوب چینل
👈🏻بلاگ
*تقریباً -/25000 (پچیس ہزار) لوگوں تک اپنی بات، اپنی خصوصیات، احسن طریقے سے پہنچائیں- صرف ایک ہزار (1000) روپے میں آج ہی رابطہ کریں*-
*عنایہ ایڈورٹائزرس*
*8983174977* *8956599552*

0 تبصرے